مخاصمات

سرکاری انتقال کے بغیر خریدی گئی زمین کی ملکیت کا شرعی حکم

فتوی نمبر :
93063
| تاریخ :
0000-00-00
معاملات / مخاصمات / مخاصمات

سرکاری انتقال کے بغیر خریدی گئی زمین کی ملکیت کا شرعی حکم

کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے والد محترم (جو اب بھی الحمدللہ بقید حیات ہے) نے آج سے تقریبا پچاس ، ساٹھ سال قبل اپنے والد (جو رشتہ میں سوتیلے تھے، لیکن والد کی پرورش ان کے ہاں ہوئی ہے) سے دو مختلف مواقع پر زمین قیمتا خریدی ہے، جس میں پہلی بیع میں زمین کا کچھ حصہ آباد (قابل کاشت) اور کچھ پہاڑی سلسلہ پر مشتمل ہے،اس موقع پر خریدی گئی زمین میں سے زرعی زمین باقاعدہ سرکاری کاغذات میں بھی والد صاحب کے نام منتقل ہوچکی ہے، لیکن پہاڑی زمین بیع کا حصہ ہونے کے باوجود سرکاری کاغذات میں نام منتقل نہیں ہوا، جس کی کوئی وجہ بظاہر سمجھ نہیں آرہی، لیکن والد محترم کا کہنا یہ ہے، کہ میں نے اپنے والد صاحب سے زرعی زمین اس شرط پر لی تھی کہ جانوروں کی گھاس بوس کےلئے بھی چونکہ پہاڑی حصہ کی ضرورت پڑتی ہے، اس لیے اس آباد زمین کے ساتھ پہاڑی حصہ بھی مجھے دیں گے، اس لئے بیع کے اندر یہ دنوں جگہیں داخل ہیں ور اسی بنیاد پر بیع کے وقت سے تاحال زمین کے دونوں حصے (زرعی اور پہاڑی) ہمارے استعمال میں ہے،اور اس پہاڑی حصہ کے ساتھ چونکہ والد صاحب کے ماموں کی زمین بھی ملتی ہے، اس لئے بعد میں ایک موقع پر ان کے ساتھ جگہ کی حدود میں تعین پر اختلاف ہوا تھا تو وہاں بھی دادا مرحوم نے ثالث کا کردار ادا کیا تھا، اور ایسی کوئی بات سامنے نہیں آئی تھی کہ یہ جگہ والد کی ملکیت نہیں۔
اسی طرح اس بیع کے کچھ عرصہ بعد والد صاحب نے مرحوم دادا سے غیرآباد دوسری جگہ (جو پہاڑی سلسلہ پر مشتمل ہے) خریدی اور بقول والد صاحب کے قانونی دستاویزات میں نام منتقل کرنے کےلئے اس کی فیس بھی دادا مرحوم کو ادا کردی گئی تھی، جو اس بیع کے بعد تاحال ہمارے قبضہ اور استعمال میں ہے، جس کے بعد والد مطمئن ہوئے تھے کہ یہ زمین بھی میرے نام منتقل ہوچکی ہے، لیکن کبھی کاغذات دیکھنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی ، نیزاس حصہ کی حد بندی کی تعین کےلئے آج سے تقریبا دس بارہ سال قبل میرے تین چچا، میں خود ، والد صاحب اور دو بندے بطور ثالث اس زمین کے حد بندی کرتے ہوئے جگہ جگہ پتھر وغیرہ رکھ کر نشانات لگاچکے ہیں، اس موقع پر بھی پہلی بیع میں غیر رجسٹرڈ اور بعد والا غیر رجسٹرڈ زمین سے متعلق کوئی ایسی بات نہیں کی کہ جس سے معلوم ہو کہ اس زمین کی ملکیت متنازع ہے۔ جبکہ اس موقع کے دونون ثالث اب وفات پاچکے ہیں۔
درج بالا تفصیل کی روشنی میں یہ شرعی راہنمائی مطلوب ہے کہ آیا یہ دونوں جگہیں ،جو قانونی طور پر والد صاحب کے نام رجسٹرڈ نہیں ہے، کیا والد صاحب کی ملکیت شمار ہوگی؟ کیا اس ملکیت کی ثبوت کےلئے بیع کے وقت سے لیکر تاحال قبضہ و استعمال میں رہنا اور چچاوں کی جانب سے کسی قسم کی دعوی نہ کرنا ثبوت ملکیت کا دلیل بن سکتی ہے؟ یا اس کےلئے باقاعدہ قانونی دستاویزات ضروری ہے؟ نیز اگر والد صاحب کے پاس کوئی قانون دستاویزات موجود نہ ہو اور موقع کے گواہان بھی وفات پاچکے ہوں، تو یہ زمین شرعا کس کی ملکیت کہلائیگی؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ شرعاکسی چیز کی ملکیت کے ثابت ہونے کے لیے اس کا سرکاری کاغذات میں رجسٹرڈ ہونا ضروری نہیں بلکہ اگر کوئی شخص مالک سے ایجاب و قبول کرکے خریداری کا معاملہ کرلے تو اس سے شرعاً وہ چیز اس کی ملکیت بن جاتی ہے ، نیز فقہاء کرام نے زمین و جائیداد کے تنازعات کے سلسلہ میں پندرہ سال کی ایک مدت مقرر کی ہے کہ اگر کوئی زمین کسی شخص کے قبضہ میں ہو اور وہ طویل عرصہ سے اس میں مالکانہ تصرفات (جیسے کاشت، خرید و فروخت اور تبادلہ وغیرہ) کرتا آرہا ہو، اور اس دوران بلا مانع شرعی کوئی مدعی سامنے نہ آئے، پھر پندرہ سال گزرنے کے بعد کوئی شخص اس زمین کے بارے میں دعویٰ کرے تو ایسے شخص کا دعویٰ قابلِ سماعت نہیں ہوتا، بلکہ عدالت یا پنچایت اسے رد کر سکتی ہے ، لہذا سوال میں درج کردہ بیان اگر واقعۃ درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس طور پر کہ سائل کے والد نے زرعی زمین کے ساتھ غیر زرعی (پہاڑی) زمین بھی سائل کے دادا مرحوم سے قیمتاً خریدی تھی ، اگرچہ کسی وجہ سے وہ سرکاری کاغذات میں رجسٹرڈ نہ ہوسکی ہو، اور اس وقت سے لے کر اب تک وہ زمین سائل کے والد کے قبضہ اور استعمال میں چلی آرہی ہو، اور اس مدت میں کسی نے اس زمین کے بارے میں کوئی دعویٰ نہ کیا ہو ( جیسا کہ سوال سے بظاہر معلوم ہوتا ہے) تو ایسی صورت میں وہ غیر زرعی (پہاڑی) زمین بھی سائل کے والد کی ملکیت شمار ہوگی ،چنانچہ ایسی صورت میں سائل کے چچاؤں کے لئے اس زمین میں حصہ داری کا دعوی ٰ کرنا درست نہ ہوگا ۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی الهداية : ۔۔والقبض لا بد منه لثبوت الملك ۔۔(224/3)
و فی الدر المختار: حتى لو أمر السلطان بعد سماع الدعوى بعد خمسة عشر سنة فسمعها لم ينفذقلت: فلا تسمع الآن بعدها إلا بأمر(ج:5،ص:419،مط:ایچ ایم سعید).
وفی رد المحتار :(تحت قولہ قوله: فلا تسمع الآن بعدها) أي لنهي السلطان عن سماعها بعدها فقد قال السيد الحموي في حاشية الأشباه: أخبرني أستاذي شيخ الإسلام يحيى أفندي الشهير بالمنقاري أن السلاطين الآن يأمرون قضاتهم في جميع ولاتهم أن لا يسمعوا دعوى بعد مضي خمس عشرة سنة سوى الوقف والإرث اهـ. ونقل في الحامدية فتاوى من المذاهب الأربعة بعدم سماعها بعد النهي المذكور.(حوالہ بالا)
وفی مجمع الفقہ الاسلامیہ: ‌وقبض ‌كل ‌شيء بحسبه. . . وقال أبو حنيفة: التخلية في ذلك قبض، وقد روى أبو الخطاب عن أحمد رواية أخرى، أن القبض في كل شيء التخلية مع التمييز لأنه خلى بينه وبين المبيع من غير حائل فكان قبضًا له كالعقار. . . إلى أن قال: ولأن القبض مطلق في الشرع فيجب الرجوع فيه إلى العرف كالإحراز والتفرق. (ج:6،ص:532)
وفی الدر المختار: (و) تصح (بقبول) أي في حق الموهوب له أما في حق الواهب فتصح بالإيجاب وحده؛ لأنه متبرع حتى لو حلف أن يهب عبده لفلان فوهب ولم يقبل بر وبعكسه حنث بخلاف البيع(و) تصح (بقبض بلا إذن في المجلس) فإنه هنا كالقبول فاختص بالمجلس (وبعده به) أي بعد المجلس بالإذن، وفي المحيط لو كان أمره بالقبض حين وهبه لا يتقيد بالمجلس ويجوز القبض بعده (والتمكن من القبض كالقبض فلو وهب لرجل ثيابا في صندوق مقفل ودفع إليه الصندوق لم يكن قبضا) لعدم تمكنه من القبض (وإن مفتوحا كان قبضا لتمكنه منه) فإنه كالتخلية في البيع اختيار وفي الدرر والمختار صحته بالتخلية في صحيح الهبة لا فاسدها وفي النتف ثلاثة عشر عقدا لا تصح بلا قبض (ولو نهاه) عن القبض (لم يصح) قبضه (مطلقا) ولو في المجلس؛ لأن الصريح أقوى من الدلالة(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها۔(ج:5،ص:590،مط:ایچ ایم سعید)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد قاسم حسین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 93063کی تصدیق کریں
0     109
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • فریقین میں پیسوں کے متعلق کا قرض اور ہدیہ میں اختلاف کا حکم

    یونیکوڈ   مخاصمات 3
  • سنی کے نام میں ’’شاہ‘‘ ہونے کی وجہ سے اس کے ساتھ ’’شیعہ‘‘ جیسا سلوک کرنا

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • قرآن پر جھوٹا حلف اٹھانے والے کا حکم-جھوٹی قسم سے کسی چیز کے مالک ہونے کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • باپ کی زندگی میں, بیٹے کا اپنی کمائی سے خریدے ہوئےگھر میں وراثت کا مسئلہ

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • زمین اور گھر کی خریدی کے تین مہینے بعد شفعہ کا دعوی کرنا

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • گاڑی گم ہونے پر ، ڈرائیور سے ،زمانۂ گمشدگی کےمتوقع منافع اور گاڑی تلاش کرنے کے اخراجات لینا

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • بیٹا اگر ذاتی کمائی سے مکان بنائے تو اس میں اس کے والد اور بھائیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • بلا سببِ شرعی بھائی کی جائیداد میں حصے کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • عورت طلاق کا دعویٰ کرے تو اولاد کی شہادت کی کیا حیثیت ہے ؟

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • ساس کا اپنی بہو کا سونا اس کی اجازت کے بغیر بیٹی کو دیدینا

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • حقوق ادا نہ کرنے والے اور طلاق نہ دینے والے شوہر سے خلاصی کا طریقہ

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • شوہر کی جانب سے اپنی بیوی پر کسی سے ناجائز تعلقات کے دعوے میں جرگہ کی رہنمائی

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • دوسرے کی زمین غصب کرنے کا حکم-اور اس کو اسی وجہ سے قتل کرنا

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • جرگے کا عورت کے حق میں شوہر کے خلاف یکطرفہ پابندیا ں عائد کرنا

    یونیکوڈ   انگلش   مخاصمات 0
  • مشترکہ گھر کی دیوار میں دو بھائیوں کے درمیان تنازعہ اور اس کا حکم

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • سرکاری انتقال کے بغیر خریدی گئی زمین کی ملکیت کا شرعی حکم

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
Related Topics متعلقه موضوعات