مفتی صاحب! ایک انتہائی شریف خاندان کی بیٹی پراسکے سسرال والوں نے بغیر کسی ثبوت ، دلیل یا گواہی کے جادو کرنے کا الزام لگا دیا ، سوال پوچھنے پر وہ کہتے ہیں کہ انکے پیر صاحب نے زائچہ نکالا ہے اور اس زائچہ میں بہو کا نام آیا ہے ، اور تو اور ، اپنے پیر کے کہنے پر انہوں نے اپنی بہو کو چار ماہ تک علاج کے نام پر گھر کے ایک کمرے تک محدود کردیا ، صرف ایک دفعہ لڑکی کو صرف والدین سے ملنے کی اجازت دی، جب لڑکی چار ماہ تک قید ہونے کی وجہ سے اعصابی کمزوری(Nervous Breakdown)کا شکار ہو گئی تو میکے والوں کو کہہ دیا کہ اسکو لے جائو ، نفسیاتی معالج اور جامعہ دارالعلوم کراچی کورنگی کے ایک عالم دین سے دینی علاج کرایا تو لڑکی اب بالکل ٹھیک ہے۔
سوال یہ پوچھنا تھا کہ اسطرح الزام لگانا کیسا ہے۔
اولاً تو اس طرح حساب کتاب کے ذریعہ کسی پر جادو وغیرہ کا اندازہ لگانا محض ایک تخمینی عمل ہے، جس کی شرعاً کوئی حیثیت نہیں، ثانیاً اگر کسی پر جادو وغیرہ کے اثرات پائے جائیں، تب بھی یہ اندازہۂمحض ہے، اور اندازے اور فرضی حساب کتاب کے ذریعہ کسی کو موردِ الزام ٹھہرانا اور اسے سوال میں مذکور طریقہ کے مطابق نظربند رکھنا غیرشرعی اور غیر اخلاقی فعل ہے، اس لۓ مذکور لڑکی کے سسرال والوں پر لازم ہے، محض اندازوں کو بنیاد بناکر ایک لڑکی کو ذہنی طورپر ٹارچرکرنا اور اس پر جادو ٹونہ کرانے کا الزام لگانا قطعاً غلط اور ناجائز ہے، اس لۓ اس سےاجتناب لازم ہے۔