کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام ایسے مسئلہ کے بارے میں کہ کسی نے اپنے بیوی کو طلاق معلق دی ہے کہ تم نے یہ بات میرے ماں باپ کو بتائی تو تمہیں طلاق اور اس کی بیوی نے 13 سال بعد جو جس کام پر طلاق کو معلق کیا تھا وہ کرلیا انتہائی مجبور ھو کر( مطلب اس حد تک شوہر نے مجبور کر دیا کہ کوئی راستہ نہیں تھا ھر طریقہ سے سمجھا لیا ہر ممکن کوشش کرلی21سال سے ظالمانہ تشددبرداشت کرتی رہی یعنی اتنے زیادہ ڈپریشن میں چلی گئی تھی اسکے تشدد سہہ سہہ کہ 3 بار اپنی جان لینے کی کو شش کی اپنی موت کے علاوہ کچھ اور اس کو راستہ نظر نہیں ارہا تھا تو اس نے یعنی اپنی جان چھڑانے کے لیے کہ کسی طریقے سے مجھے چھوڑ دے اور وہ خلع کی طرف جا نہیں سکتی تھی تواس صورت میں کیونکہ وہ بہت مجبور تھی آگےکوٹ وغیرہ کوفیس نہیں کر سکتی تھی فنائنشلی کمزور تھی) تو کیا اس کو جو ہے وہ طلاق بائن ہو جائے گی اگر عدت میں رجوع نہیں ھوا اور آگے اسکا کیا حکم ھے حق مھر اور اپنا ذاتی سامان اور زیورات وغیرہ واپس لے سکتی ھے ؟نیز یہ بھی بتا دیں کہ ایسی صورت میں وہ گناہگار ھوگی ؟
سوال میں ذکر کردہ صورت اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو، اس میں کسی قسم کی دروغ گوئی اور غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو بایں طور کہ مذکورہ عورت کے شوہر نے واقعۃً اپنی بیوی کو مذکور الفاظ " تم نے یہ بات میرے ماں باپ کو بتائی تو تمہیں طلاق" کہے ہوں تو اس مذکورہ عورت پر ایک طلاق رجعی معلق ہو چکی تھی اور جب تیرہ سال بعد عورت نے وہ کام بحالتِ مجبوری کر دیا جس کیساتھ شوہر نے طلاق کو معلق کیا تھا تو عورت گناہ گار نہیں ہوئی مگر اس پر معلق ایک طلاق رجعی واقع ہو گئی، لہذا شوہر اگر دوران عدت زبانی طور پر رجوع کرلے، یاشہوت کیساتھ بیوی کو چھو لے تو اس سے رجوع درست ہوجائیگا اور دونوں کا نکاح حسب سابق برقرار رہے گا،ورنہ دوران عدت رجوع نہ کرنے کی صورت میں عدت گزرنے پر دونوں کا نکاح ختم ہوجائیگا، اور عورت دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی، تاہم عدت گزرنے کے بعد بھی اگر دونوں میاں بیوی دوبارہ ایک ساتھ رہنے کیلئے آمادہ ہوں تو اس کیلئے باقاعدہ شرعی گواہان کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کیساتھ ایجاب و قبول کرکے تجدید نکاح لازم ہو گا، بہر صورت شوہر کو آئندہ کیلئے فقط دو طلاقوں کا اختیار باقی رہیگا ا سلئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط لازم ہے۔
جبکہ جو مال عورت کا ذاتی ہو چاہے وہ عورت کو میراث، جہیز یا مہر میں ملا ہو یا اُس نے از خود کما کر جمع کیا ہو وہ واپس لے سکتی ہے، شوہر کو مذکور اموال روکنے کا شرعاً کوئی حق حاصل نہیں۔
کما في الھداية: واذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية او تطليقتين فله أن يراجعھا في عدتھا۔اھ (2/405)
و فی الھندية: وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا۔اھ (1/420)