میں شیراز اکرم قریشی , میں نے شدید غصے میں اپنی بیوی کو طلاق دی ہے ,میرا بہت شدیدقسم کا ہے, میں غصے میں پاگل ہوجاتا ہوں, مجھے غصے میں بولے ہوئے الفاظ کا پتہ تک نہیں ہوتا , نہ الفاظ یاد رہتے ہیں ,اور میں نے بیوی کو جو طلاق دی ہے وہ میری نیت تک نہیں تھی میں نے جو کہا شدید غصے میں کہا ۔۔
کیا میری طلاق ہو چکی ہے ؟
تنقیح کا جواب
الفاظِ طلاق یہ تھے کہ " میں شیراز اپنی بیوی کو طلاق طلاق طلاق دیتا ہوں"
واضح ہوکہ غصہ کی حالت میں بھی طلاق دینے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے،لہذا سائل نے جب مذکور جملہ"میں شیراز اپنی بیوی کو طلاق طلاق طلاق دیتاہوں"کہدیا تو اس سے سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے،اب رجوع نہیں ہوسکتا،اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا،جبکہ عورت عدت مکمل کرنےکے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے -