کسی شخص کی اپنے سالے سے تلخ کلامی ہوئی ،تو اس نے اپنی بیوی سے کہا کہ آ ئندہ اپنے بھائی کی کوئی خدمت کی تو آپ کو طلاق ہے اور تو مجھ سے فارغ ہے، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس کو کتنی طلاقیں واقع ہوئی ہیں ؟
صورت مسئولہ میں ا گر شخص مذکور نے ا پنی بیوی کو مذکور الفاظ " آئندہ اپنے بھائی کی کوئی خدمت کی تو آ پ کو طلاق ہے ، اور تو مجھ سے فارغ ہے " کہے ہوں ،تو اس سے تعلیق طلاق منعقد ہوچکی ہے ،چنانچہ شخص مذکور کی بیوی اگر اپنے بھائی کی خدمت کرے گی ،تو اس پر معلق دو طلا ق بائن واقع ہوکر دونوں کا نکاح ختم ہو جائے گا ، جس کے بعد عورت عدت گزارنے کےبعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی،البتہ اگر دونوں میاں بیوی دوبارہ ایک ساتھ رہنے پر رضامندہوں تو نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ تجدید نکاح کرنا لازم ہو گا ،تاہم آئندہ کیلئے شخص مذکور کو فقط ایک طلاق کا اختیار ہوگا۔
فی الفتاوى الهندية : و إن علق الطلاق بالشرط إن كان الشرط مقدما فقال إن دخلت الدار فأنت طالق و طالق و طالق و هي غير مدخولة بانت بواحدة عند وجود الشرط في قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى و لغا الباقي و عندهما يقع الثلاث و إن كانت مدخولة بانت بثلاث إجماعا إلا أن على قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى يتبع بعضها بعضا في الوقوع و عندهما يقع الثلاث جملة واحدة. اھ(1/374)۔
و فی الشامیۃ : (قوله أو دلالة الحال) المراد بها الحالة الظاهرة المفيدة لمقصوده و منها ما تقدم ذكر الطلاق (الی قولہ) (قوله و هي حالة مذاكرة الطلاق) أشار به إلى ما في النهر من أن دلالة الحال تعم دلالة المقال قال: و على هذا فتفسر المذاكرة بسؤال الطلاق أو تقديم الإيقاع اھ (3/297)۔
و فیہ ایضاً: و إذا لحق الصريح البائن كان بائنا لأن البينونة السابقة عليه تمنع الرجعة كما في الخلاصة. (3/306)۔