دو طلاق کے بعد کتنے عرصہ تک شوہر اور بیوی ایک دوسرے سے دور رہ سکتے ہیں ،اور کیا حکم ہے اس کے بعد آگے کیا کرنا چاہیے ، دوبارہ نکاح یا پھر ساتھ رہ سکتے ہیں ۔
اگر صریح الفاظ (مثلاً میں نے اپنی بیوی کو طلاق دی وغیرہ ) کے ذریعے شوہر بیوی کو ایک ساتھ دو رجعی طلاقیں دیتا ہے ،تو اس کے بعد شوہر کو عدت کے اندر رجوع کرنے کا اختیار ہوتا ہے ،چنانچہ اگر شوہر عدت کے اندر زبانی طورپر رجوع کرلے (مثلاً میں رجوع کرتا ہوں وغیرہ الفاظ کہہ دے ) یا عملاً میاں بیوی والے تعلقات قائم کر لے یا شہوت کے ساتھ بیوی کو چھولے تو اس سے رجوع ہو جائیگا اور دونوں کا نکاح بدستور بر قرار رہے گا ،لیکن اگر شوہر عدت میں رجوع نہ کرے تو عدت گزرنے سے یہ دو رجعی طلاقیں ،طلاق بائن بن جائیں گی اور اس سے دونوں کا نکاح ختم ہو جائیگا،اس کے بعد دوبارہ ایک ساتھ رہنے کیلئے باقاعدہ شرعی گواہان کی موجودگی میں تجدید نکاح لازم ہو گا ،بہر صورت آئندہ کیلئے شوہر کو فقط ایک طلاق کا اختیار ہو گا ، اس لئے آئندہ طلاق کے معاملے میں احتیاط سے کام لینا ہو گا ۔
فی الهدايۃ :وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض اھ (2/254)
وفیہ ایضاً :والرجعة أن يقول راجعتك أو راجعت امرأتي " وهذا صريح في الرجعة (الی قولہ )قال: " أو يطأها أو يقبلها أو يلمسها بشهوة أو بنظر إلى فرجها بشهوة اھ (2/254)۔