میرے گھر کے سامنے میری حدود کی مسجد والوں نے لوڈ اسپیکر لگایا ہوا ہے، اذان اور بیان کے لئے ،جس کی وجہ سے ہمارے گھر بہت زیادہ تیز اذان اور بیان کی آواز آتی ہے ،تو اس کے بارے میں رہنمائی فرما دیں !
واضح ہوکہ اذان کا مقصد غائبین کو نماز کے وقت کی اطلاع دینا ہے ،تاکہ لوگ اذان کی آواز سن کر مسجد کی طرف آجائیں اور یہ مقصدصرف اسی صورت میں پورا ہوسکتا ہے کہ جب لوڈ اسپیکر اتنا تیز کریں کہ ، کم از کم محلہ والوں تک آواز پہنچ سکے ۔
جبکہ بیان کیلئے غائبین تک اپنی بات پہنچانا ضروری نہیں ہے ،بلکہ صرف حاضرین تک اپنی بات پہنچانا کافی ہے،اور اس کیلئے اگر اندرونِ مسجد کے لوڈ اسپیکر آن کردیے جائیں ، تو یہی کافی ہے ،بیان کیلئے باہر کے لوڈ اسپیکر آن کرنا جس کی وجہ سے آس پاس کے لوگوں کو تکلیف ہو درست نہیں،اس سلسلہ میں سائل کو چاہیئے کہ محلہ کے بااثر سمجھدار افراد کے ذریعہ مسجد انتظامیہ سے حکمت و بصیرت کے ساتھ بات کراکے ان کو سمجھانے کی کوشش کرے ،امید ہے کہ اس سے فائدہ ہوگا ۔
کما فی الفتاویٰ الھندیة : و السنة أن يؤذن في موضع عال يكون أسمع لجيرانه و يرفع صوته اھ (55/1)
و فی بدائع الصنائع: (أما) الذي يرجع إلى نفس الأذان فأنواع: منها : أن يجهر بالأذان فيرفع به صوته؛ لأن المقصود وهو الإعلام يحصل به ألا ترى أن النبي صلى الله عليه وسلم ۔ قال لعبد الله بن زيد علمه بلالا فإنه أندى و أمد صوتا منك؟ و لهذا كان الأفضل أن يؤذن في موضع يكون أسمع للجيران كالمئذنة و نحوها اھ (149/1)واللہ اعلم