کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ میں کہ زید نے مطلقہ عورت سے نکاح کیا اور دونوں کے درمیان طے تھا کہ وہ سابقہ خاوند کے بچوں کے سامنے اپنے تعلق کا اظہار نہیں کریں گے، زید نے بیوی کو کال کی جو کہ اس کے بڑے بیٹے نے سن لی ، جس کی وجہ سے اس کا بڑا بیٹا اپنی ماں سے ناراض ہو گیا ،زید کی بیوی اپنے بڑے بیٹے کے سامنے شرمندہ ہو گئی، اورزید سے طلاق کا مطالبہ کرنے لگی ، اس نے بار بار معافی مانگی تو بیوی نے کہا کہ میں نے معاف کر دیا ، مگر مجھ سے بات نہ کرنا، ناراضگی سے پہلے بیوی نےزید سے کچھ پیسوں کا مطالبہ کیا تھا ،لیکن وہ پیسے زیدکے پاس ناراضگی کے بعد آۓ ، تو زیدنے بیوی سے کہا کہ پیسے لے لو ،بیوی نے کہا مجھے تم سے خوف آتا ہے ،کل تم دوبارہ بچوں کے سامنے اپنا اور میراتعلق ظاہر کروگے، میں نے پیسے نہیں لینے ، زید نے کہا کہ میں دوبارہ ایسا نہیں کروں گا تم مجھ سے پیسے لے لو ، اگر میں نے دوبارہ ایسا کیا تو میں تم کو ایک طلاق کا حق دے دیتا ہوں ،تم اس وقت یہ حق استعمال کر لینا ، اگر میں نے دوبارہ ایسا کیا ، مگر بیوی نہ مانی اور اس نے پیسے نہ لیے، آج سے پانچ دن پہلے کسی کے سامنے بات دوبارہ ہوئی ، تو بیوی نے ان سے وہی کہا کہ اس نے مجھے بدنام کیا اور اپنا سارا غصہ نکالتی رہی کہ اس نے مجھے میرے بیٹے کے سامنے بد نام کیا ہے، زید اس کی ساری بات خاموشی سے سنتا رہا ،اسی دوران بیوی نے کہا کہ میں نے خلع لینی ہے، تو زید نے کہا اگر آپ کو لگتا ہے کہ میں آپ کوبدنام کروں گا تو میں حق دیتا ہوں، زید نے حق کے ساتھ طلاق کا لفظ نہیں بولا،اور بیوی کی طرف نہ اضافت کی اور نہ اشارہ کیا کہ تم کو حق دیتا ہوں ،صرف لفظ حق بولا ، اور زید کی نیت ایک طلاق کی تھی اور زید کی یہی نیت تھی کہ یہ اس خاص موقع پہ مستقبل میں اپنے طلاق کا حق استعمال کر لے ، جب زید بیو ی کو بدنام کرنے لگے، لیکن بیوی نے وہ حق فوراً استعمال کر لیا ،پہلے کہا کہ میں حق استعمال کرتی ہوں، پھر اس نے کہا کہ آپ نے جو حق دیا ہے میں اس کو استعمال کرتے ہوئے طلاق دیتی ہوں، زید نے کہا میں نے اس موقع کے لئے آپ کو نہیں دیا تھا ،میں نے تو آپ کو دیا تھا کہ جب میں آپ کو بدنام کروں اس وقت آپ استعمال کرلینا ،یہ آپ نے کیا کیا ،برائے مہربانی یہ فرمادیں کہ اضافت کے بغیر لفظ حق بولنے سے طلاق کا حق بیوی کو مل جاتا ہے ؟ جب کہ بیوی کی طرف نہ اشارہ کیا گیا ہو نہ اضافت کی گئی ہو ، لفظِ حق بولنے سے زید کی مراد وہ معلق طلاق تھی کہ وہ خاص وقت پر بیوی استعمال کر سکتی تھی، برائے مہربانی یہ فرما دیں کہ یہ حق بیوی کو منتقل ہو گیا اور کیا یہ طلاق واقع ہو گئی؟
سوال میں ذکر کردہ وضاحت کے مطاق اگر زید نے اپنی بیوی سے مذکور جملہ "اگر میں نے دوبارہ ایسا کیا تو میں تم کو ایک طلاق کا اختیار دیتا ہوں ،تم اس وقت یہ اختیار استعمال کر لینا "کہا ہو تو اس کی بیوی کو اپنے اوپر معلق ایک طلاق واقع کرنے کا اختیار مل چکا ہے ،اور زید جب بھی وہ کام کرے گا جس پر اس نے طلاق کے اختیار کو معلق کیا ہے تو اس وقت اس کی بیوی کو اپنے اوپر ایک طلاق واقع کرنے کا حق حاصل ہوگا ، جبکہ اس واقعہ کے بعد بیوی کے مطالبۂ خلع کے جواب میں جب زید نے مذکور جملہ "اگر آپ کو لگتا ہے کہ میں آپ کو بدنام کروں گا تو میں حق دیتا ہوں "کہا اور زید کی نیت اس سے مستقبل میں بدنام کرنے پر حقِ طلاق دینا تھا، اور بیوی نے فی الفور اپنے اوپر طلاق واقع کی تو اس سے زید کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ،البتہ آئندہ اگر کسی موقع پر زید اپنی بات کی مخالفت کرے گا تو اس کی بیوی کو اپنے اوپر طلاق واقع کرنے کا پورا اختیار ہوگا ۔
کما فی الرد : ثم اعلم أن اشتراط النية إنما هو فيما إذا لم يذكر النفس أو ما يقوم مقامها في كلامه ، و إنما ذكرت في كلامها فقط كما يأتي تحريره ، فتنبه لذلك فإني لم أر من نبه عليه اھ(3 /315)۔
و فی البحر الرائق : و أطلق الأمر باليد فشمل المنجز ، و المعلق إذا وجد شرطه و منه ما في المحيط لو قال : إن دخلت الدار فأمرك بيدك فإن طلقت نفسها كما وضعت القدم فيها طلقت لأن الأمر في يدها ، اھ(3/344)۔