کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بار ے میں کہ کمپنی میں ایک ملازم عرصہ پندرہ سال سے کام کررہا ہے ،کسی خیانت (جو چوری کی صورت میں تھی،جسکی مالیت تقریباً پندرہ سو روپے تھی) کی وجہ سے کمپنی نے اس کو فارغ کر دیا اور اس کی آدھی تنخواہ اور پراویڈنٹ فنڈ جو عرصہ دس سال سے کمپنی میں جمع ہورہا تھا روک لیا ، اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا شرعی طور پر وہ ملازم اس آدھی تنخواہ اور اس فنڈ کا مستحق ہے یا نہیں؟
سوال میں ذکر کردہ وضاحت کے مطابق مذکور ملازم کا چوری جیسی خیانت اور بددیانتی کا ارتکاب کرنا شرعاً ناجائز اور گناہ کبیرہ ہے ، جس کی وجہ سے وہ سخت گناہ گار ہوا ہے ، اس پر لازم ہے کہ اپنے اس گناہ پر بصدق دل توبہ واستغفار کرنے کے ساتھ ساتھ کمپنی مالکان سے بھی دست بستہ معافی مانگے اور آئندہ کیلئے دوبارہ اس قسم کے حرام کاموں سے مکمل اجتناب کرے ۔
جبکہ کمپنی مالکان کا مذکور غلط حرکت کی وجہ سے اس کی آدھی تنخواہ کاٹنا یا پراویڈنٹ فنڈ روکنا شرعاً جائز نہیں ، بلکہ کمپنی مالکان پر لازم ہے کہ مذکور ملازم کا جو حق بنتا ہے ، وہ دیدیں ، البتہ اس جرم کی وجہ سے اگر کمپنی اس ملازم کو ملازمت سے برطرف کردے یا اتنی رقم اس سے وصول کرلے جتنی اس نے چوری کی ہے تو وہ اس میں حق بجانب ہوگی ۔
قال اللہ تعالیٰ: يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ (النساء:29)۔
و فی تفسیرالبغوی: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْباطِلِ يعني بالحرام، بِالرِّبَا وَالْقُمَارِ وَالْغَصْبِ وَالسَّرِقَةِ وَالْخِيَانَةِ وَنَحْوَهَا، عن تراض منکم :ای بطیب نفس کل واحد منکم اھ (1/ 417)۔
مقتول کے اولیاء میں سے کچھ ورثاء و اولیاء قصاص معاف کردیں تو دیگر اولیاء کے لئے دیت اور اس کی تقسیم کا حکم و طریقہ کار
یونیکوڈ تعذیر و جرمانہ 1