کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بار ے میں کہ میں نے اپنی منکوحہ کو رخصتی سے قبل ان الفاظ سے کہ" میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" طلاق دی ہے، اور یہ الفاظ تین مرتبہ کہے ہیں، میری منکوحہ سے تنہائی میں کوئی ملاقات وغیرہ نہیں ہوئی،البتہ مارکیٹ وغیرہ میں ملاقات ہوئی، اور اسی طرح گھر میں جہاں اور لوگ بھی ہوتے تھے، میں اب اپنی منکوحہ سےرجوع کرنا چاہتا ہوں، آیا کہ میں رجوع کر سکتا ہوں یا نہیں ؟ قرآن و سنت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں!
سائل نے اگر رخصتی اور خلوت صحیحہ سے قبل اپنی منکوحہ کو مذکورالفاظ "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" متفرق طور پر تین مرتبہ کہہ دیئے ہوں تواس سے سائل کی منکوحہ پر پہلے جملے سے ہی صرف ایک طلاق بائن واقع ہوکر دونوں کا نکاح ختم ہو چکا ، جبکہ بقیہ دونوں طلاقیں محل نہ ہونے کی وجہ سے لغو ہوگئی ہیں، لہذا سائل کی منکوحہ دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ، البتہ اگر دونوں دوبارہ میاں بیوی دوبارہ کی طرح ایک ساتھ رہنے پر آمادہ ہوں تو باقاعدہ شرعی گواہوں کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ ایجاب و قبول کرنے کے بعدایک ساتھ رہ سکتے ہیں،تاہم اس صورت میں سائل کو آئندہ کے لئے فقط دو طلاقوں کااختیار ہوگا ،اس لئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط لازم ہے۔
کما فی الھداية: وإذا طلق الرجل امرأته ثلاثا قبل الدخول بها وقعن عليها (الی قولہ) فإن فرق الطلاق بانت بالأولى و لم تقع الثانية والثالثة و ذلك مثل أن يقول أنت طالق طالق طالق لأن كل واحدة إيقاع على حدة إذا لم يذكر في آخر كلامه ما يغير صدره حتى يتوقف عليه فتقع الأولى في الحال فتصادفها الثانية و هي مبانة۔اھ (2/388)۔
وفيھا ايضاً: و اذا کان الطلاق بائنا دون الثلٰث فلہ ان یتزوج فی العدة و بعد انقضائھا، لان حل المحلیة باق لان زوالہ معلق بالطلقة الثالثة فینعدم قبلہ، و منع الغیر فی العدة لاشتباہ النسب و لا اشتباہ فی اطلاقہ۔اھ (2/399)۔