مفتی صاحب میں نے سنا ہے کہ با جماعت نماز میں اگر امام قراءت شروع کر دے تو ثنا پڑھنا جائز نہیں ہے، مگر مجھے اس مسئلے کی معلومات نہیں تھی اور میں کافی مہینوں تک ایسے ہی نماز پڑھتا رہا، کہ امام قراءت کر رہا ہوتا تھا اور میں ثنا پڑھتا تھا تو کیا مجھے وہ ساری نمازے دوبارہ پڑھنی ہو گی اور اگر دوبارہ پڑھنی ھو گی تو ان نمازوں کی کیا نیت ہو گی؟
اگرچہ امام کی قراءت کرنے کی صورت میں مقتدی کے لیے ثناء پڑھنے کے بجائے خاموش رہنے کا حکم ہے،لیکن اگر کوئی اس دوران خاموش رہنے کے بجائے ثناء پڑھ لیں، تو اس سے نماز کی صحت متاثر نہ ہوگی، البتہ جان بوجھ کر اس طرح کرنا درست نہیں، لہذا سائل نے جتنے عرصہ اس طرح نمازیں ادا کی ہے، وہ نمازیں ادا ہوچکی ہیں، انہیں دوبارہ دہرانے کی ضرورت نہیں، البتہ آئندہ کے لیے احتیاط کی ضرورت ہے۔
کمافی الفتاوی الھندیۃ: "(الفصل السابع في المسبوق واللاحق) المسبوق من لم يدرك الركعة الأولى مع الإمام وله أحكام كثيرة، كذا في البحر الرائق.
(منها) أنه إذا أدرك الإمام في القراءة في الركعة التي يجهر فيها لايأتي بالثناء، كذا في الخلاصة، هو الصحيح، كذا في التجنيس، وهو الأصح، هكذا في الوجيز للكردري، سواء كان قريبًا أو بعيدًا أو لا يسمع لصممه، هكذا في الخلاصة، فإذا قام إلى قضاء ما سبق يأتي بالثناء ويتعوذ للقراءة، كذا في فتاوى قاضي خان والخلاصة والظهيرية،وفي صلاة المخافتة يأتي به. هكذا في الخلاصة ويسكت المؤتم عن الثناء إذا جهر الإمام هو الصحيح. كذا في التتارخانية في فصل ما يفعله المصلي في صلاته." اھ (کتاب الصلاۃ،ج1،ص90۔91،ط؛دار الفکر)