کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں اپنی بیوی کو بذریعہ فون زبانی طور پر تین مرتبہ طلاق کے الفاظ بول چکا تھا ، 21/11/2022کے دن میں نے یہ الفاظ بول دئے تھے ،"کہ میں فلانہ بنت فلاں کو طلاق دیتا ہوں "لڑکی نے فون پر سنا بھی ،بھر کچھ عرصہ بعد میں نے تحریری طور پر تین طلاقیں دے دی،اور ان کو پیغام بھی دیا تھا کہ اپنا سامان وغیرہ اٹھا کر لے جائیں ،لیکن وہ لوگ یہ بات ماننے کیلئے تیار نہیں ہیں ،وہ کہتے ہیں کہ چونکہ ہم نے لڑکی کو اس طلاق نامہ کے متعلق نہیں بتایا، اس لئے طلاق واقع نہیں ہوئی ،جبکہ تحریری طلاق نامہ سے پہلے ہی میں لڑکی کو فون پر تین مرتبہ زبانی طور پر بھی کہہ چکا ہوں ،اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں طلاق واقع ہوئی یا نہیں ؟اور اب آئندہ ہمارے لئے کیا حکم ہے ؟
سائل نے جب فون پر اپنی بیوی کو تین دفعہ یہ الفاظ" میں تمہیں طلاق دیتا ہوں "کہہ دیے تو اس سے اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمت ِمغلظہ ثابت ہو چکی ہے ،اب ر جوع نہیں ہو سکتا اور بغیر حلالۂ شرعیہ کے دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا ،لہٰذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گز قائم نہ کریں ورنہ دونوں سخت گناہ کار ہونگے ، جبکہ عورت عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
کما قاال اللہ تعالی :{فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ {۔(البقرہ :230)۔
و فی الدر المختار :باب الصريح (صريحه ما لم يستعمل إلا فيه) و لو بالفارسية (كطلقتك وأنت طالق ومطلقة)اھ(3/248)۔
و فی الہدایۃ :و إن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا و يدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها "اھ (2/257)۔