بلا عذر جماعت کے بغیر گھر میں نماز پڑھنا, جمعہ کی نماز بلا عذر گھر میں ادا کرنا اور باقی گھر والوں کا اسکے ساتھ تعلق کسطرح سے ہو ،شرعی حکم کیا ہے؟
واضح ہو کہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا سنتِ مؤکدہ ہے،جو حکم کے اعتبار سے واجب کے قریب ہے، اسی طرح شہر کے رہائشی صحیح سالم اور تندرست شخص پر جمعہ کی نماز بھی لازم اور ضروری ہے،لہذا کسی عاقل،بالغ شخص کا بلا عذرِ شرعی جماعت کو ترک کر کے گھر میں نماز ادا کرنا بہت بڑی محرومی اور گناہ ہے، ایسے شخص کے متعلق احادیث مبارکہ میں وعیدیں وارد ہوئی ہیں،چنانچہ ایک حدیث شریف میں آتا ہےکہ" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :میرا جی چاہتا ہے کہ نماز کی اقامت کا حکم دوں، پھر ایک آدمی کو کہوں کہ لوگوں کو نماز پڑھائے، اور خود ایسے لوگوں کی طرف جاؤں جو بلا عذر جماعت کی نماز میں حاضر نہیں ہوتے ، اور میرے ساتھ کچھ لوگ ہوں ، جن کے پاس لکڑیوں کے گھٹے ہوں پھر میں انکے گھروں کو آگ لگا دوں ،" لہٰذا مذکور شخص کیلئے بلا عذرِ شرعی مسجد کی جماعت اور جمعہ کو مستقل طور پر ترک کرنا شرعاً جائز نہیں، جبکہ گھر والوں کو چاہیئے کہ ایسے شخص کو حکمت و بصیرت کے ساتھ از خود یا کسی بااثرسمجھدار شخص کے ذریعہ سمجھانے کی کوشش کریں ، اور ساتھ ساتھ اسکے لیے دعاؤں کا بھی اہتمام کریں، ان شاء اللہ امید ہے کہ وہ جماعت کیساتھ نماز کی ادائیگی کا اہتمام شرع کر لے۔
کما فی سنن ابی داؤد : عن أبي هريرة ، قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : « لقد هممت أن آمر بالصلاة ، فتقام ، ثم آمر رجلا فيصلي بالناس ، ثم أنطلق معي برجال معهم حزم من حطب إلى قوم لا يشهدون الصلاة، فأحرق عليهم بيوتهم بالنار " (50/1) ۔
و فی مشكاة المصابيح : عن أبي الجعد الضميري قال : قال رسول الله-صلى الله عليه و سلم -:« من ترك ثلاث جمع تهاونا بها طبع الله على قلبه ». رواه أبو داود و الترمذي و النسائي و ابن ماجه و الدارمي (433/1)
و فیھا ایضاً : و عن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه و سلم قال :«من ترك الجمعة من غير ضرورة كتب منافقا في كتاب لا يمحى و لا يبدل ». و في بعض الروايات ثلاثا . رواه الشافعي (435/1)
و في الدر المختار: (و الجماعة سنة مؤكدة للرجال) قال الزاهدي : أرادوا بالتأكيد الوجوب إلا في جمعة و عيد فشرط الخ(255/1)
و فی ردالمحتار: ( قوله قال الزاهدي إلخ ) توفيق بين القول بالسنية و القول بالوجوب الآتي ، و بيان أن المراد بهما واحد أخذا من استدلالهم بالأخبار الواردة بالوعيد الشديد بترك الجماعة . و في النهر عن المفيد : الجماعة واجبة ، و سنة لوجوبها بالسنة اهـ و هذا كجوابهم عن رواية سنية الوتر بأن وجوبها ثبت بالسنة قال في النهر : إلا أن هذا يقتضي الاتفاق على أن تركها مرة بلا عذر يوجب إثما مع أنه قول العراقيين . و الخراسانيون على أنه يأثم إذا اعتاد الترك كما في القنية . اهـ (255/1)واللہ اعلم