"حم لاینصرون " والا وظیفہ جو آج کل ہر پریشانی کے حل کےلئے مشہور ہےاور غزوہ خندق کا حوالہ دیا جاتا ہے کہ اس موقع پر آپ علیہ السلام اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے یہ پڑھا تھا , کیا یہ ٹھیک ہے ؟
واضح ہوکہ پہلے جہاد اور جنگ وغیرہ میں اپنے ساتھیوں کو پہچاننے کیلئے ایک شعار اور علامت مقرر کی جاتی تھی ،تاکہ کوئی راستہ بھول جائے یا اندھیرے میں اپنے ساتھیوں کو تلاش کرنا پڑے تو اس شعار اور علامت کے ذریعہ ان کو پہچانا جاسکے،اسی طرح سوال میں مذکور جملہ"حم لاینصرون"غزوہ خندق کے موقع پر نبی ﷺ نے صحابہ کرام کیلئے بطورِ شعار اور علامت کے مقرر کیا تھا ،لہذا اس کو نبی ﷺ کی طرف سے وظیفہ قرار دینا درست نہیں،البتہ مذکور وظیفہ کی نسبت نبیﷺ کی طرف کیے بغیر اگر کوئی پڑھنا چاہے تو پڑھ سکتاہے۔