کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کا بیٹا کسی دوسرے شخص کی بیوی کو بھگا کر لےگیا ہو اور اس عورت سے چار ،پانچ بچے بھی ہوں ،اور پھر پہلے شوہر نے اس عورت کو طلاق بھی نہ دی ہو ،اور جو بھگا کر لے گیا ہے ڈیڑھ سال کا عرصہ گزر چکا ہے ،اور اب اس سے ایک بچہ بھی پیدا ہوا ہے ،اب ایک قاضی نے یہ فیصلہ دیا ہے کہ اس لڑکے کے والد سے کسی قسم کے تعلقات نہ رکھیں جائیں ،کیا اس لڑکے کے والد سے گاؤں والوں کا تعلقات نہ رکھنا شرعاً درست ہو گا یا نہیں ؟ حالانکہ کسی شخص کے واسطے سے اس والد کی بیٹے سے ملاقات بھی کروائی گئی ہے،اور والد نے اسے کہا بھی ہے کہ اس عورت کو گھر جانے دو ،چند ایک گاؤں والے اس سے نفرت بھی کرنے لگ گئے ہیں ،اب آیا کہ قاضی کا فیصلہ درست ہے ؟
مزید وضاحت : قاضی صاحب نے عصر کی نماز کے بعد زبانی طور پر یہ فیصلہ صادر فرمایا کہ اس شخص کے ساتھ بائیکاٹ کیا جائے ، جبکہ نہ تو اس لڑکے کا والد اس کے ساتھ جرم میں شریک تھا نہ معاون تھا ،بلکہ اس جرم کی بنیا د پر والد نے اپنے بیٹے کو عاق بھی کردیا ہے ۔
سوال میں ذکر کردہ بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو تو مذکور شخص کے بیٹے کا کسی اور شخص کی بیوی کو بھگا کر لے جانا اور عورت کیلئے اپنے شوہر سے طلاق لیے بغیر کسی غیر مرد کے ساتھ چلی جا نا ،اور پھر دونو ں کا جسمانی تعلق قائم کرنا شرعاً ناجائز و حرام اور انتہائی سنگین جرم ہے،اسلامی قانون کے نافذالعمل ہونے کی صورت میں ثبوتِ جرم کے بعد ان پر سخت سےسخت سزا جاری کی جاتی ، چنانچہ وہ دونوں اس حرام کاری کی وجہ سےسخت گناہ گار ہورہے ہیں ،لہذا ان پر لازم ہے کہ اپنے اس فعلِ قبیح پر بصدقِ دل توبہ و استغفارکرتے ہوئےایک دوسرے سےعلیحدگی اختیار کریں -
جبکہ کسی اور کی بیوی کو بھگا کر لےجانےوالے شخص کا والد اگراس جرم میں ملوث اور معاون نہ ہو بلکہ اس نے اس جرم کی وجہ سے بیٹے کو عاق بھی کیا ہوا ہو تو بیٹے کے جرم میں والد کو قصوروار ٹھہرا کراہلِ علاقہ کا اس سے قطعِ تعلق اور بائیکاٹ کرنا درست نہیں ،جس سے انہیں اجتناب چاہیۓ ۔
قال اللہ تبارک و تعالی:{وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى} الآیۃ [فاطر: 18]-
و فی التفسير المظهري : وَ لا تَزِرُ وازِرَةٌ اى لا تحمل نفس آثمة وِزْرَ اى ثقل يعنى اثم نفس أُخْرى اھ(8/51)-
و فی الشامیۃ : أما نكاح منكوحة الغير و معتدته فالدخول فيه لا يوجب العدة إن علم أنها للغير لأنه لم يقل أحد بجوازه فلم ينعقد أصلا(الی قولہ) و لهذا يجب الحد مع العلم بالحرمة لأنه زنى كما في القنية و غيرها اهـ . (3/132)-