ترجمہ :اگر مرد اپنی بیوی کو زبانی طلاق دے ،اور بعد میں طلاق دینے سے انکار کردے ،تو کیا ایسی طلاق موجود ہے ؟
واضح ہو کہ اگر شوہر نے گواہان کی موجودگی میں بیوی کو ایک مرتبہ طلاق دیدی ہو تو دیانۃً اور قضاءً یہ طلاق واقع ہو چکی ہے،اب اس سے انکار شرعاً معتبر نہیں ۔
البتہ اگر سائل کسی خاص مسئلہ کے بارے میں حکمِ شرعی معلوم کرنا چاہتا ہو تو اس مسئلہ کی پوری تفصیل لکھ سوال ای میل کردے ،ان شاء اللہ غور و فکر کے بعد حکمِ شرعی سے آگاہ کردیا جائے گا ،ورنہ اس طرح فرضی سوال کرنے سے احتراز کرنا چاہیئے ۔
کما فی الدر المختار :(و يقع طلاق كل زوج بالغ عاقل) و لو تقديرا بدائع، ليدخل السكران (و لو عبدا أو مكرها) فإن طلاقه صحيح لا إقراره بالطلاق اھ(3/235)۔
و فی الہندیۃ : يقع طلاق كل زوج إذا كان بالغا عاقلا سواء كان حرا أو عبدا طائعا أو مكرها كذا في الجوهرة النيرة و طلاق اللاعب و الهازل به واقع اھ(1/353)۔