کیا میاں بیوی طلاق کے بعد اوپر نیچے فلور پر رہ سکتے ہیں ؟ اور شادی کے 19 سال بعد طلاق ہوئی ہے اور بچے 16 اور 17 سال کے ہیں ، اور بچے ایسا چاہتے ہیں ، اس میں شرعی کیا حکم ہے اور کیا جائز اور ناجائز ہے ؟
مذکور شخص نے اگر اپنی بیوی کو واضح الفاظ ( جیسے تجھے طلاق ہے و غیرہ ) کے ساتھ تین طلاقیں دے دی ہوں ، تو اس سے اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالہ شرعیۃ کے بغیر باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا ، تاہم اگر شادی کے اتنے عرصہ بعد عمر کے اس حصہ میں میاں و بیوی کے لئے بچوں کی تربیت وغیرہ جیسے اعذار کی بناپر الگ الگ گھر میں رہائش اختیار کرنا ممکن نہ ہو ، تو ایسی مجبوری کی صورت میں میاں و بیوی مکان کے اوپری اور نچلی منزل میں بچوں کے ساتھ اس طور پر رہائش اختیار کر سکتے ہیں ، کہ ان کے درمیان میاں و بیوی کی طرح میل جول اور کوئی تعلق نہ رہے ، بلکہ ایک دوسرے سے اجنبی بن کر پردہ شرعیہ کا اہتمام لازم ہوگا ، تاہم اگر اس طرح رہائش اختیار کرنا کسی قسم کے فتنہ میں واقع ہونے کا سبب بن سکتا ہو تو ایسی صورت میں دونوں کا بالکل الگ الگ مکان میں رہائش اختیار کرنا لازم ہوگا ۔
كما في الدر المختار : قال : و لهما أن يسكنا بعد الثلاث في بيت واحد إذا لم يلتقيا التقاء الأزواج ، و لم يكن فيه خوف فتنة انتهى . و سئل شيخ الإسلام عن زوجين افترقا و لكل منهما ستون سنة و بينهما أولاد تتعذر عليهما مفارقتهم فيسكنان في بيتهم و لا يجتمعان في فراش و لا يلتقيان التقاء الأزواج هل لهما ذلك؟ قال : نعم ، و أقره المصنف . ( فصل في الحداد ، ج 3 ، ص 538 ، ط : سعيد ) -
و في رد المحتار : تحت ( قوله : و سئل شيخ الإسلام ) ما نقله عن المجتبى بما إذا كانت السكنى معها لحاجة ، كوجود أولاد يخشى ضياعهم لو سكنوا معه ، أو معها ، أو كونهما كبيرين لا يجد هو من يعوله ولا هي من يشتري لها ، أو نحو ذلك و الظاهر أن التقييد بكون سنهما ستين سنة و بوجود الأولاد مبني على كونه كان كذلك في حادثة السؤال كما أفاده ط . ( مطلب على أن المفتي أن ينظر في خصوص الوقائع ، ج 3 ، ص 538 ، ط : سعيد ) -