مفتی صاحب !السلام علیکم! جناب بعدازسلام گزارش یہ ہے کہ: میں ایک طالب علم ہوں ۔مطلوبہ مسئلہ یہ ہے کہ آ ج سے تقریباً دو سال قبل میں ایک مدرسہ میں پڑھتا تھا، دورانِ تعلیم کسی طالب علم نےاستاذ محترم کی جوتی چوری کی شرارتاً،مجھےمعلوم تھا، استاذنے طلباء سےکلماکی قسم لی اورکہا"یہ کہوکہ نہ میں نے چوری کی ہےاور نہ ہی مجھے معلوم ہے ،اگر مجھے معلوم ہویامیں نےچوری کی ہو،تومیں نے کلماکےساتھ قسم اٹھائی"، جب کہ مجھے معلوم نہ تھا کہ کلماکی قسم کا کیا حکم ہے ؟اب معلوم ہوا ہے میرا نکاح ہورہاہے عندالشریعت نکاح منعقد ہوجائے گاکہ نہیں اگر نہیں ہوگا تو نکاح کا شرعی طریقہ کیا ہے؟
صورتِ مسئولہ اگر سائل نے کلما کی قسم کے لیے سوال میں مذکور الفاظ کہ ” میں کلماکی قسم کھاتا ہوں کہ نہ میں نے چوری کی ہےاور نہ ہی مجھے معلوم ہے "کے ساتھ کلما کے مفہوم پر دلالت کرنے والے الفاظِ شرط ادا نہیں کیے ،تو ایسی صورت میں ان الفاظ سے کوئی قسم منعقد نہیں ہوئی ہے، لہذا نکاح کرنے کی وجہ سے سائل کی بیوی پر نہ کوئی طلاق واقع ہوگی، اور نہ ہی سائل حالف شمار ہوگا۔
کما فی الشامیة: (قوله ولو بالفارسية) فما لا يستعمل فيها إلا في الطلاق فهو صريح يقع بلا نية، وما استعمل فيها استعمال الطلاق وغيره فحكمه حكم كنايات العربية في جميع الأحكام بحر. وفي حاشية للخير الرملي عن جامع الفصولين أنه ذكر كلاما بالفارسية معناه إن فعل كذا تجري كلمة الشرع بيني وبينك ينبغي أن يصح اليمين على الطلاق لأنه متعارف بينهم فيه. اهـ. قلت: لكن قال في [نور العين] الظاهر أنه لا يصح اليمين لما في البزازية من كتاب ألفاظ الكفر: إنه قد اشتهر في رساتيق شروان أن من قال جعلت كلما أو علي كلما أنه طلاق ثلاث معلق، وهذا باطل ومن هذيانات العوام اهـ فتأمل الخ (باب صریح الطلاق، کتاب الطلاق، ج: 3، ص: 247، ط: سعید)۔