محترم جناب مفتی صاحب!سوال یہ ہے کہ شوہر نے اپنی بیوی کو کچھ کرنے کا کہا جو وہ نہ مانی، تو شوہر نے شرط لگا دی کہ جب تک وہ عمل نہیں کرتی تب تک الگ سوئے ، بیوی نے جواب دیا کہ وہ عمل کبھی نہیں کرے گی ، تو شوہر نے کہا کہ پھر تم وہاں پر سوؤو اور میں یہاں پر یعنی دونوں الگ الگ سوئیں گے ، بیوی نے ناراض ہو کر اپنی والدہ کی طرف جانے کا کہا جس پر شوہر نے اسے کہا کہ"اگر تم گئی تو واپسی کے دروازے تم پر بند"،وہ نہیں گئی ، بعد میں شوہر کی رضامندی کے ساتھ گئی اور شوہر راضی خوشی خود لے کر گیا ، مزید یہ کہ بیوی حاملہ ہے ، اس ساری گفتگو کے دوران شوہر نے بیوی سے پوچھا کہ"کیا تم معاملات ختم کرنا چاہتی ہو"اور یہ بھی پوچھا کہ"کیا میں بچے کی پرورش ماں کے بغیر کروںگا"لیکن یہاں شوہر اور بیوی دونوں کو یاد نہیں کہ آیا کہ اس نے یہ پوچھا جو پہلے لکھا یعنی سوال کے انداز میں یا کہ یہ کہا کہ"ماں کے بغیر ہی کروں گا"یعنی سوال کے انداز میں نہیں ، یہ باتیں رشتہ داروں تک پہنچیں اور کچھ یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا میاں بیوی کے رشتے پر کوئی فرق تو نہیں پڑا ؟
نوٹ :شوہر نے بیوی سے جائز کام کا مطالبہ کیا تھا ، لیکن بیوی نے انکار کیا اور بیوی نے اپنی والدہ کی طرف جانے کا کہا جس پر شوہر نے مذکور الفاظ "اگر تم گئی تو واپسی کے دروازے تم پر بند" بطورِ دھمکی کہے ہیں۔
سوال میں درج کردہ بیان کے مطابق شوہر نے اپنی بیوی کو ڈرانے دھمکانےکی غرض سے جو الفاظ کہے"اگر تم گئی تو واپسی کے دروازے تم پر بند" ان الفاظ سے تعلیقِ طلاق منعقد نہیں ہوئی،لہٰذا اسکے بعد بیوی اگرچہ اپنی والدہ کے ہاں گئی ہو تب بھی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ، بلکہ دونوں حسبِ سابق میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کر سکتے ہیں، تاہم آئندہ کے لئے شوہر کو اس طرح کےالفاظ استعمال کرنے میں بھی احتیاط سے کام لینا چاہیئے ۔
کما فی الدر المختار : (هو)(الی قوله)(رفع قيد النكاح في الحال) بالبائن (أو المآل) بالرجعي (بلفظ مخصوص) هو ما اشتمل على الطلاق ، (3/227)۔
و فی ردالمحتار : (قوله و ركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية ۔(3/230)۔