کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری بیٹی فاطمہ جس کا رشتہ میں نے عرفان سید سے کیا ہے ، ان کے گھر میں ہر وقت لڑائی جھگڑے وغیرہ ہوتے ہیں ، اور وہ خفا ہو کر گھر آ جاتی ہے ، پھر رشتہ دار لوگ آکر لے جاتے ہیں، لیکن اس بار میں نے تنگ آکر اس کے ساتھ ایک اسٹامپ پیپر لکھا کہ اگر تم نے اس بار پھر جھگڑا و غیر ہ کیا تو فاطمہ تم پر طلاق ہو جائے گی، اور طلاق کا یہ جملہ تین دفعہ لکھا گیا ، جس پر شوہر نے دستخط کر دیے، اور کہا کہ ٹھیک ہے ، اگر میں نے ایسے کیا تو طلاق واقع ہو جائے گی، جس میں دو گواہ بھی ہیں ،اب اس نے فاطمہ سے پھر لڑائی جھگڑا ، مار کٹائی وغیرہ کیا اور میں نے جاکر اپنی بیٹی کو گھر لے آیا، جو کہ دو تین مہینے سے میرے گھر پر ہے، جسکے دو بچے ہیں ، ایک لڑکی اور ایک لڑکا , لڑکی کی عمر سات سال اور لڑکے کی عمر چھ سال ہے ، لہذا آپ سے درخواست ہے کہ اسلام کی روشنی میں ہمیں بتائیں کہ طلاق ہو چکی ہے یا نہیں ؟ ہم نے یہاں دو تین مسجدوں کے اماموں کو پیپر دکھا یا تو انہوں نے کہا کہ طلاق ہو چکی ہے، لیکن ساتھ یہ بھی بولا کہ بنوریہ مدرسہ سے مسئلہ معلوم کر کے اس پر عمل کریں، لہذا مفتیانِ کرام ہماری رہنمائی فرمائیں.
نوٹ : شوہر نے صرف طلاق نامہ پر دستخط کیے تھے ، جرگہ میں زبانی طور پر کوئی جملہ نہیں کہا گیا ، نیز شوہر عرفان سید کا کہنا ہے کہ مجھے اسکے متعلق بالکل علم نہیں تھا کہ اسٹامپ پیپر میں تین طلاقیں لکھی ہوئی ہیں، مجھے اگر چہ اسٹامپ پیپر پڑھایا گیا تھا لیکن میں اس وقت اپنے بچوں کی حوالگی کے متعلق پریشانی میں مبتلاء تھا، اس لئے مجھے بالکل علم نہیں ہوا کہ اس میں تین دفعہ طلاقیں لکھی گئی ہیں، مزید یہ ہے کہ میرے ساتھ پانچ لاکھ روپے جرمانے کی بات ہوئی تھی کہ آئندہ اگر ایسی صورتحال پیش آئی تو پانچ لاکھ روپے جرمانے کی ادائیگی لازم ہو گی ، میں نے اس بات کو قبول کرتے ہوئے اسٹامپ پیپر پر دستخط کئے تھے ، میں حلفاً کہتا ہوں کہ مجھے علم نہیں تھا۔
سوال کےساتھ منسلکہ اسٹامپ پیپرمیں جوالفاظ ذکرکیے گئےہیں "آئندہ جھگڑے کے ایسے حالات پیداہوئے تو فاطمہ اور عرفان آپس میں یہ سمجھ لیں کہ ہمارے درمیان طلاق واقع ہو چکی ہے اور ہمارے درمیان طلاق واقع ہوچکی ہے اور طلاق واقع ہوچکی ہے "یہ چونکہ سمجھنے اورفرض کرنے کیلئے مستعمل ہیں،اور سمجھنے اور فرض کرنے سےکوئی طلاق واقع نہیں ہوتی اس لۓ مذکور الفاظ سے شرعاً کوئی طلاق معلق نہیں ہوئی تھی ، چنانچہ منسلکہ معاہدہ کےبعد شوہرمسمیٰ عرفان نےاگرچہ اپنی بیوی کےساتھ لڑائی جھگڑا کیا ہو تب بھی شرعاً اس کی بیوی مسماۃ فاطمہ پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، بلکہ دونوں کا نکاح بدستور برقرار ہے، اور دونوں حسبِ سابق میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کرسکتے ہیں ،تاہم شوہر کو آئندہ کیلئےطلاق کے الفاظ استعمال کرنے اور لڑنے جھگڑنے سے اجتناب کرنا چاہیئے۔
فی الفتاوی الھندیۃ : و لوقال "دادہ انکار او کردہ انکار (ظنی انہ اعطی او ظنی انہ فعل )لایقع و ان نوی اھ (1/380)۔
و فیہ ایضاً : و إن علق الطلاق بالشرط إن كان الشرط مقدما فقال إن دخلت الدار فأنت طالق و طالق و طالق و هي غير مدخولة بانت بواحدةعند وجود الشرط في قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - و لغا الباقي و عندهما يقع الثلاث و إن كانت مدخولة بانت بثلاث إجماعا اھ(1/374)۔
و فی بدائع الصنائع : فإن قدمه بأن قال : إن دخلت الدار فأنت طالق و طالق و طالق ، تعلق الكل بالشرط بالإجماع حتى لا يقع شيء قبل دخول الداراھ (3/138)۔