تفویض طلاق

تفویضِ طلاق کے مؤثر اور قابلِ عمل ہونے کی شرائط

فتوی نمبر :
69078
| تاریخ :
معاملات / احکام طلاق / تفویض طلاق

تفویضِ طلاق کے مؤثر اور قابلِ عمل ہونے کی شرائط

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرا اور میری بیوی کا 16 مئی کو معمولی بات پر جھگڑا ہوا , جس پر میری بیوی نے کہا کہ" مجھے فارغ کردو " میں نے اسے کہا کہ میں کون ہوتا ہوں تمہیں فارغ کرنے والا تم خود کرلو ,اس سے نہ ہی میری یہ مراد تھی اور نہ ہی میری نیت تھی اور نہ ہی میں اسے ایسا کرنے دیتا ، جس محفل میں یہ بات ہوئی تھی اس کے بعد بھی میری بیوی کافی عرصہ میرے ساتھ رہی ہے ،میں نے اپنی بیوی کو کبھی ایسا نہیں کہا تھا کہ جب تمہارا دل چاہےساری زندگی کیلئے اختیار دے رہا ہوں , کبھی ایسا نہیں کہا تھا اور نہ ہی یہ کہا تھا کہ جب تمہارا دل چاہے میرے اختیار کو استعمال کر لینا ،میں حلفاً کہتا ہوں کہ میں نے کبھی ایسا نہیں کہا تھا کہ ساری زندگی کیلئے اختیار دے رہا ہوں اور نہ ہی ہمیشہ کیلئے ایسا کہا تھا ،بلکہ جس محفل میں بات ہوئی تھی تب بھی میری ایسی نہ نیت تھی اور نہ ہی مراد تھی ، تو وہ کیسے میرا دیا حق استعمال کرسکتی ہے ؟ کیوں کہ جس مجلس میں یہ بات ہوئی تھی جس سے نہ ہی میری مراد تھی اور نہ ہی نیت تھی ، وہ تو اس کے بعد بھی کافی عرصہ میرے ساتھ رہی ہے وہ اختیار تو اس کے پاس ختم ہو گیا تھا ،مختصر یہ کہ میری بیوی کا کچھ عرصہ بعد پھر جھگڑا ہوا اور اس نے سامان لینا ضروری سمجھا ،اس وقت بھی اس موضوع پر کوئی بات نہیں ہوئی تھی کہ اختیار دے رہا ہوں،بلکہ یہی بات ہوئی تھی کہ صلح کرنی ہے تمہارے ساتھ ، اور گواہوں کے درمیان یہ طے پایا تھا کہ شاہد طلاق نہیں دے گا ، مجھے اس پر فتوی چاہیئے کہ کیسے لڑکی کوئی بھی حق استعمال کر سکتی ہے ،میں نے کبھی ایسا حق نہیں دیا تھا کہ ساری زندگی اور ہمیشہ کیلئے تم کر لینا خود ایسا ، کبھی ایسا نہیں کہا تھا ، مجھے فتویٰ چاہیئے کہ کیا ہم ساتھ رہ سکتے ہیں ؟ اور میری رضامندی کے بغیر نکاح متائثر ہو گیا ہے میرا ؟

مزید وضاحت : دوسری مرتبہ جب میرا اور میری بیوی کا جھگڑا ہوا تو میری بیوی اور اس کےگھروالوں نے 16 مئی والے جھگڑے میں جو اختیار دیا تھا اس کو استعمال کرتے ہوئے عدالت میں جاکر خلع کی ڈگری لے لی ،اور کاغذات مجھےبھیج دیے کہ ہم نےعدالت سے خلع کی ڈگری لے لی ہے اور ا ب یہ آپ کی بیوی نہیں ہے،حالانکہ عدالت میں میں نے اپنابیان بھی جمع کروایا تھا کہ میں کسی صورت میں اس کوخلع کا اختیار نہیں دے رہا بلکہ میں صلح کرناچاہتاہوں ،اور اس کی شرائط کو پورا کرتاہوں ،میرا یہ بیان اور ان کے بھیجے ہوئے کاغذات سوال کے ساتھ منسلک ہیں ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ اگرشوہرکسی وقت کی تحدیدکےبغیرمطلقاً بیوی کوطلاق کےوقوع کااختیاردے توجس مجلس میں یہ اختیار دیا گیا ہو فقط اسی مجلس میں بیوی کو اپنے اوپر طلاق واقع کرنے کا اختیار حاصل ہوتاہے ،اگربیوی کچھ کہےبغیراس مجلس سےاٹھ کھڑی ہوگئی،یااس جگہ سےچلی گئی یا کسی اور کام میں مشغول ہوگئی توایسی صورت میں شرعاً بیوی کا یہ اختیار ختم ہوجائےگا،لہذااگرسائل نےکسی موقع پر اپنی بیوی کو اپنے اوپر طلاق واقع کرنے کا مطلق اختیار دے بھی دیا ہو لیکن اس نےاسی مجلس میں اس اختیار کو استعمال نہ کیاہو توایسی صورت میں طلاق کا یہ اختیار ختم ہو چکا تھا ، جس کے بعد اگربیوی نےسابقہ اختیار کی بنیادپر اپنےاوپر طلاق واقع کی ہو تو شرعاً اس سےطلاق واقع نہ ہوگی ،اسی طرح اگرسائل کی بیوی نےعدالت سے یکطرفہ خلع کی ڈگری حاصل کی ہو تو چونکہ خلع کے متحقق ہونےکیلئے فریقین کی باہمی رضامندی اور باقاعدہ ایجاب و قبول شرط ہے اس لئے سائل کی اجازت ورضامندی کے بغیر سائل کی بیوی نے یکطرفہ طورپر خلع کی جو ڈگری حاصل کی ہے ، اس سے شرعاً نکاح ختم نہیں ہوا , بلکہ حسبِ سابق دونوں کا نکاح قائم ہے ،چنانچہ اس ڈگری کو بنیاد بناکر سائل کی بیوی کیلئے کسی دوسری جگہ نکاح کرنا شرعاً جائز نہ ہوگا ۔

مأخَذُ الفَتوی

فی الفتاوى الهندية : إذا قال لامرأته اختاري ينوي بذلك الطلاق أو قال لها طلقي نفسك فلها أن تطلق نفسها ما دامت في مجلسها ذلك و إن تطاول يوما أو أكثر ما لم تقم منه أو تأخذ في عمل آخر و كذا إذا قام هو من المجلس فالأمر في يدها ما دامت في مجلسها (الی قولہ ) إذا قامت عن مجلسها قبل أن تختار نفسها و كذا إذا اشتغلت بعمل آخر يعلم أنه كان قاطعا لما قبله كما إذا دعت بطعام لتأكله أو نامت أو نشطت أو اغتسلت أو اختضبت أو جامعها زوجها أو خاطبت رجلا بالبيع و الشراء فهذا كله يبطل خيارها كذا في السراج الوهاج اھ (1/387)۔
و فی الشامیۃ : (قوله : و شرطه كالطلاق) و هو أهلية الزوج و كون المرأة محلا للطلاق منجزا أو معلقا على الملك و أما ركنه فهو كما في البدائع : إذا كان بعوض , الإيجاب و القبول لأنه عقد على الطلاق بعوض ، فلا تقع الفرقة ، و لا يستحق العوض بدون القبول اھ (3/441)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد قاسم حسین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 69078کی تصدیق کریں
1     1821
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • کیا عورت مرد کو طلاق دے سکتی ہے؟

    یونیکوڈ   تفویض طلاق 1
  • بیوی کو وکالت کی جازت ملنے پر وہ شوہر سے نکاح ختم کراسکتی ہے؟

    یونیکوڈ   تفویض طلاق 1
  • تفویضِ طلاق کے مؤثر اور قابلِ عمل ہونے کی شرائط

    یونیکوڈ   تفویض طلاق 1
  • تفویض طلاق کی ایک صورت کا حکم

    یونیکوڈ   تفویض طلاق 0
  • عورت کو اگر طلاق کا حق تفویض کیا جائے تو وہ اپنے اوپر کیسے طلاق واقع کرے گی ؟

    یونیکوڈ   تفویض طلاق 0
  • تفویضِ طلاق کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   تفویض طلاق 1
  • ایک طلاق کے متعلق حکم

    یونیکوڈ   انگلش   تفویض طلاق 0
  • تفویض طلاق کے متعلق حکم

    یونیکوڈ   تفویض طلاق 0
  • تفویض طلاق کی ایک صورت کا حکم

    یونیکوڈ   تفویض طلاق 0
  • آپ کو دیا اور فارغ کردیا کہنے سے طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   تفویض طلاق 0
  • بیوی کو طلاق کا حق تفویض کرنے سے کیا اسے رجوع کا حق بھی حاصل ہوگا؟

    یونیکوڈ   تفویض طلاق 0
  • تفویض طلاق کب معتبر ہوتی ہے؟

    یونیکوڈ   تفویض طلاق 1
Related Topics متعلقه موضوعات