کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں مسمیٰ "فیروز " کا نکاح مسماۃ "عابدہ" سے آج سے بارہ (12) سال قبل ہوا تھا ،گھر میں کچھ لڑائی جھگڑے چلتے تھے ،تو میں نے تنگ آکر مولوی صاحب سے مشورہ لیا اور بیوی کو طلاق دینے کا ارادہ کیا ،لیکن مولوی صاحب نے مجھے کہا کہ بس ایک (1) طلاق دو ،تو میں نے اپنے سالے کے سامنے صرف ایک مرتبہ یہ الفاظ کہے کہ یہ مجھ پر طلاق ہے " دا پہ ما طلاقہ دہ" تو میرے سالے نے مجھے کہا کہ جاؤ یہ اس کو بولو،مطلب اپنی بیوی کو بولو ،تو میں نے اس کے ہاتھ میں صرف تین پتھر دیے اور زبان سے کچھ بھی الفاظ نہیں بولے،اب میں اپنی بیوی کو لانا چاہتا ہوں اور میرا سسر اسے نہیں بھیج رہا اور کہہ رہا ہے کہ پہلے فتوی لے کر آؤ ،اس واقعہ کو تقریباً تین مہینے ہوگئے ہیں ،اس دوران ہمارے درمیان ہمبستری تو نہیں ہوئی ،لیکن میں نے بہت مرتبہ اپنی بیوی کو لانے اور راضی کرنے کی کوشش کی ہے ،لیکن میرا سسر نہیں آنے دے رہا۔
نوٹ : سائل کی بیوی مسماۃ عابدہ سے فون پر رابطہ ہوا ،ان کا بھی یہی بیان ہے ،جو کہ سوال میں مذکور ہے ،اب ہمارے لئے شرعاً کیا حکم ہے ؟
سائل نے جب اپنی بیوی کے بھائی سے بیوی کے متعلق گفتگو کے دوران مذکور الفاظ" دا پہ ما طلاقہ دہ(ترجمہ: یہ مجھ پر طلاق ہے ) ایک مرتبہ کہہ دیے تو اس سے سائل کی بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہوچکی ،جبکہ اس کے بعد اگر سائل نے اپنی بیوی کے ہاتھ میں فقط تین پتھر دیے تھے ،اس موقع پر اس نے طلاق کے الفاظ نہیں کہے تھے ،تو محض بیوی کے ہاتھ میں پتھر دینے سے سائل کی بیوی پر مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ،البتہ پہلی طلاق کے بعد سے اب تک اگر تین ماہواریاں گزرنے سے عدت مکمل ہوچکی ہو اور دورانِ عدت سائل نے زبانی یا عملی طور پر رجوع بھی نہ کیا ہو تو ایسی صورت میں یہ رجعی طلاق ،طلاقِ بائن بن چکی ہے جسکی وجہ سے دونوں کا نکاح ختم ہوچکا ہے ،لہذا اب رجوع تو نہیں ہوسکتا،البتہ اگر دونوں میاں بیوی دوبارہ باہمی رضا مندی سے ایک ساتھ رہنا چاہیں تو شرعی گواہان کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ ایجاب و قبول کرکے تجدیدِ نکاح کے بعد ایک ساتھ رہ سکتے ہیں ، تاہم اس صورت میں آئندہ کیلئے سائل کو فقط دو/2 طلاقوں کا اختیار ہوگا ،اس لئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط سے کام لینا چاہیئے ۔
کما فی الشامیة : [ركن الطلاق] (قوله و ركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية فخرج الفسوخ على ما مر ، و به ظهر أن من تشاجر مع زوجته فأعطاها ثلاثة أحجار ينوي الطلاق و لم يذكر لفظا لا صريحا و لا كناية لا يقع عليه كما أفتى به الخير الرملي و غيره اھ (3/230)۔
و فیه ایضاً : قال : أنت طالق و أشار بثلاث أصابع و نوى الثلاث و لم يذكر بلسانه فإنها تطلق واحدة خانية (قوله لفقد التشبيه) أي بالعدد قال القهستاني لأنه كما لا يتحقق الطلاق بدون اللفظ لا يتحقق عدده بدونه (قوله لم أره) كذا قال في الأشباه من أحكام الإشارة و جزم الخير الرملي بأنه لغو و إن نوى به الطلاق ، و قال: لأن اللفظ لا يشعر به و النية لا تؤثر بغير اللفظ اھ (3/275)۔
و فی الفقه الحنفی وادلته : طلاق السنة ان یطلق الرجل امراته واحدۃ حین تطھر من حیضتھا من غیر ان یجامعھا ، و ھو یملک الرجعة حتیٰ تنقضی العدۃ فاذا انقضت فھو خاطب من الخطاب اھ (2/210)۔