میرے شوہر نے بہت عرصہ سے میرے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھا ، نہ ہی میرکوئی حق ادا کیا ہے ، نہ رابطہ کرتے ہیں اور نہ ہی کوئی لینا دینا رکھا ہے ، پانچ سال سے تو گھر نہیں آئے اور دو سال سے رابطہ بند کر دیا کیونکہ میں بیمار ہوگئی وہ چھوڑ کر چلے گئے ، اب میرا یہ رشتہ باقی ہے یا میں اُنکے نکاح سے آزاد ہوگئی ہوں ؟
سائلہ کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو ، اس میں کسی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو ، اس طور پر کہ سائلہ کا شوہر نان نفقہ اور سائلہ کے حقوق کی ادائیگی نہ کرتا ہو تو اُس کا مذکور طرزِ عمل شرعاً درست نہیں جس کی وجہ سے وہ سخت گناہ گار ہو رہا ہے ، اُس پر لازم ہے کہ بیوی کا نان نفقہ اور دیگر حقوقِ واجبہ کی ادائیگی کا اہتمام کرے اور اپنے گھر کو آباد کرنے کی فکر کرے۔
جبکہ مذکور مدت میں اگر شوہر نے طلاق نہ دی ہو تو صرف دوری اختیار کرنے کی وجہ سے سائلہ پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ، بلکہ دونوں کا نکاح برقرار ہے ، چنانچہ سائلہ کو چاہیئے کہ خاندان کے معزز اور با اثر افراد کے ذریعے اپنے شوہر کو سمجھانے کی کوشش کرے ، اور ساتھ اللہ تعالیٰ سے اُسکی ہدایت کی دُعا بھی کرتی رہے ، اُمید ہے کہ اس سے معاملہ حل ہو جائے گا۔
لیکن اگر ہر ممکن کوشش کے باوجود شوہر اپنے مذکور طرزِ عمل سے باز نہ آئے اور سائلہ کے نان نفقہ کی ادائیگی نہ کرے تو ایسی مجبوری کی صورت میں سائلہ شوہر سے طلاق لے کر علیحدگی بھی اختیار کرسکتی ہے اور اس صورت میں سائلہ گناہ گار بھی نہ ہوگی۔
کما فی الدر المختار : (و لا بأس به عند الحاجة) للشقاق بعدم الوفاق (و فی رد المحتار تحت ھذا قوله للشقاق) فإن لم يصطلحا جاز الطلاق و الخلع۔اھ (3/441)۔
و فیه أیضاً : كتاب الطلاق (هو) لغة رفع القيد لكن جعلوه في المرأة طلاقا و في غيرها إطلاقا ، فلذا كان أنت مطلقة بالسكون كناية و شرعا (رفع قيد النكاح في الحال) بالبائن (أو المآل) بالرجعي (بلفظ مخصوص) هو ما اشتمل على الطلاق ، فخرج الفسوخ كخيار ، عتق و بلوغ و ردة فإنه فسخ لا طلاق ، و بهذا علم أن عبارة الكنز و الملتقى منقوضة طردا و عكسا بحر۔اھ (3/226)۔