السلام علیکم ! حضرت امید ہے آپ بخیر و عافیت ہونگے ، حضرت آپ کے جواب کا انتظار رہے گا ، ایک مسئلہ ہے تفصیلاً لکھ رہا ہوں ۔ شوہر بیرون ملک ہوتا ہے اور بیوی پاکستان میں ہوتی ہے اور شوہر سوشل انزائٹی / ڈپریشن کا مریض ہے اور کئی سالوں سے انزائٹی اور ڈپریشن کی دوائیاں کھاتا ہے ، اور ہر وقت ہر بات پر غصہ آتا ہے دل کی دھڑکن تیز ہوتی ہے ہوش و حواس کھو جاتا ہے جس کے علاج کے تمام پیپر موجود ہیں ، مسئلہ یہ ہے شوہر ہر وقت واٹس اپ اور موبائل کے ذریعے بیوی کیساتھ لڑائی کرتا ہے ہر معمولی سی بات پر شوہر بیوی کو کہتا ہے میں آپکو طلاق دے دوں گا میرےپاس طلاق کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے ، ایک دن شدید لڑائی میں شوہر نے وائس میسج / اور لکھ کر بھی بھیجا کہ فلاں آپ مجھ پر طلاق ہو ، آپ مجھ پر طلاق ہو ، آپ مجھ پر طلاق ہو ، لیکن بیوی نے وہ میسج نہیں دیکھے اور سنے تھے جب شوہر کو ہوش آیا تو وہ ڈیلیٹ کر دی ، جبکہ شوہر نے بذاتِ خود کئی عاملوں سے جو کہ صحیح دینی عامل تھے سے رجوع کیا تو پتہ چلا کہ یہ سحر اور جادو کا زور ہے جس کے ذریعے آپکا نکاح ختم کرنا چاہتا ہے کوئی ، تو آیا ایسی صورت میں طلاق واقع ہوگئی ہے یا نہیں ؟ اگر ہاں تو اب کیا کریں میاں بیوی اور اگر نہیں تو پھر کیا حکم ہے ؟ شوہر بیرون ملک ہوتا ہے جبکہ میاں بیوی یہ نہیں مانتے کہ طلاق ہوگئی ہے دونوں کی پسند کی شادی ہے ، اور شوہر قسم اور قرآن پاک پر حلف دینا چاہتا ہے کہ اس کو کوئی سمجھ نہیں آتی کہ کیا کر رہا ہے اور کیا بول رہا ہے اس وقت میں ، تو برائے مہربانی اس کا جواب عنایت فرمائیں ۔ جزاک اللہ خیر
صورتِ مسؤلہ میں لڑائی جھگڑے کے دوران اگر مذکور شوہر نے وائس میسج اور تحریری صورت میں بھی مذکور الفاظ " آپ مجھ پر طلاق ہو " تین بار کہہ دیئے ہوں ، اور شوہر کو اس تمام صورت ِ حال کا علم بھی ہو ، تو ایسی صورت میں اگر چہ بیوی کے وہ میسج سننے سے قبل شوہر نے اسے ڈیلیٹ کر دیئے ہوں ، تب بھی اس سے اس کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے ، جبکہ بقیہ طلاقیں محل نہ ہونے کی وجہ سے لغو ہوگئی ہیں ، لہذا اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا ، جبکہ عورت ایامِ عدت گزرنے کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے ۔
قال اللہ تعالی : الطلاق مرتٰن فامساک بمعروف او تسریح باحسان ( الی قولہ ) فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجاً غیرہ ۔ الایۃ ( سورۃ البقرۃ ) ۔
و فی اعلاء السنن : قال علی : و کل طلاق جائز الا طلاق المعتوہ بدائع لیدخل السکران الخ ۔ ( کتاب الطلاق ج 3 ص 235 ط ادارۃ القرآن ) ۔
و فیہ ایضاً ون ابن عباس : اتاہ رجل فقال : ان عمی طلق امراتہ ثلاثا فقال : ان عمک عصی اللہ فاندمہ اللہ فلم یجعل لہ مخرجا الخ ۔
و فی بدائع الصنائع : ( و لنا ) الکتاب و السنۃ و المعقول اما الکتاب فقولہ تعالی الطلاق مرتن الی قولہ عزوجل فان طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ و النص ورد فی الحرۃ اخبر اللہ تعالی ان حل الحرۃ یزول بالثلاث من غیر فصل ( الی قولہ ) فیجب العمل باطلاقہ الخ ۔ ج 3 ص 97 ط سعید ) ۔
و فی الدر المختار : ( و البدعی ثلاث متفرقۃ او ثلثان مرۃ او مرتین فی طھر واحد لا رجعۃ فیہ الخ ۔ ( کتاب الطلاق ج 3 ص 232 ط سعید ) ۔
و فیہ ایضاً : کتب الطلاق ، ان مستبینا علی لوح وقع ان نوی و قیل مطلقاً الخ ۔ ( کتاب الطلاق ج 3 ص 246 ط سعید ) ۔
و فی رد المحتار : تحت ( قولہ کتب الطلاق ) قال فی الھندیۃ : الکتابۃ علی نوعین : مرسومۃ و غیر مرسومۃ ، و نعنی بالمرسومۃ ان یکون مصدراً و معنونا مثل ما یکتب الی الغائب ( الی قولہ ) و ان کانت مرسومۃ یقع الطلاق نوی او لم ینو الخ ۔ ( حوالہ بالا ) ۔