میری بیوی میرے اوپر چیخ رہی تھی کہ طلاق دو ! طلاق دو ! طلاق دو !میں نے اُسے بولا کہ اچھا رک جاؤ ، میں کرتا ہوں، صبر کرو ، چیخنا بند کرو ، میرا کہنے کا مطلب یہ تھا کہ ابھی چپ ہوجاؤ ، میں کر دوں گا ، مقصد صرف اسے چپ کرانا تھا ہماری دو طلاق ہو چکی ہیں ، کیا یہ طلاق واقع ہوگئی ؟
نوٹ: سائل کا کہنا ہے کہ شروع میں ایک طلاق میسج پر مذکور الفاظ"I devorce you" (میں تمہیں طلاق دیتا ہوں) کےساتھ ایک مرتبہ دی،پھر ایک مفتی صاحب سے مسئلہ پوچھ کر رجوع کرلیا تھا، پھر ایک سال بعد پھر میسج پر انہیں الفاظ (I devorce you) کے ساتھ ایک طلاق دی ، پھر مفتی صاحب سے مسئلہ پوچھ کررجوع کرلیا تھا۔
سائل کا سوال اگر واقعۃ درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس طور پر کہ سائل نے اپنی بیوی کے طلاق کے مطالبہ کرنے پر مذکور الفاظ" اچھا صبر کرو ، میں کرتا ہوں" ہی کہے ہوں تو اس سے سائل کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ،البتہ سائل نےوقتاً فوقتاً دو طلاقیں دینے کے بعد دورانِ عدت زبانی یا عملاً (بوس و کنار وغیرہ کے ذریعے) رجوع کر لیا ہو تو ان کا نکاح برقرار ہے ،لہذا دونوں ایک ساتھ میاں بیوی کی طرح رہ سکتے ہیں، البتہ آئندہ کیلئے سائل کو فقط ایک طلاق کا اختیار ہوگا، اس لئے آئندہ طلاق کے معاملے میں خوب احتیاط لازم ہے ۔
کما فی الدر المختار: كتاب الطلاق (هو) لغة رفع القيدوشرعا (رفع قيد النكاحفي الحال) بالبائن (أو المآل) بالرجعي (بلفظ مخصوص) هو ما اشتمل على الطلاق اھ (3/227)۔
وفی الھندیة: إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها اھ (1/472)۔