میری بیٹی کا نکاح اڑھائی سال قبل لاہور میں ، خرم منظور نامی لڑکے سے ہوا ، جو کہ پیشہ کے اعتبار کے خود ایک وکیل ہے ، اُس کی ناشائستہ حرکات( گھر میں نشہ کرنا ، نشائی دوستوں کو گھر میں لانا ، ہماری بیٹی کو نان و نفقہ کے معاملہ میں تنگ کرنا) اور وجوہات کی بناء پر ہم اپنی بیٹی کو واپس لیکر آئے ، جس پر اس لڑکے کےخاندان کے بڑوں کے سامنے یہ بات کی گئی کہ یہ لوگ بچی کو بغیر اجازت لے گئے ہیں ، (جبکہ ہم اُسکی اور اسکی والدہ کی اجازت سے لیکر آئے تھے)لہٰذا اب ہم نہیں رکھیں گے ، طلاق دے دیں گے ، جب اس بات کا علم ہوا تو ہم نے کہہ دیا کہ آپ طلاق دے دیں ، جس پر اس نے نوٹسِ اوّل بھیجا ، جو کہ منسلک ہے ، اس میں ہماری بیٹی کے نام کا تلفظ درست نہیں لکھا اور بعد میں اس نے کہا کہ یہ میں نے جان بوجھ کر غلط لکھا ، محض ڈرانے کیلئے ، درحقیقت میں نے طلاق نہیں دی ، جس پر ہم نے دوبارہ کہا کہ آپ صحیح طرح سے تین طلاقیں دیں ، تا کہ ہم فارغ ہو جائیں اور عدّت کا خرچہ بھی دیں ، جس پر اس نے طلاقِ ثلاثہ کا نوٹس بھیجا ، اس میں بھی بیٹی کے نام کا تلفظ درست نہیں لکھا ، مزید یہ کہ ہم نے انٹرنیٹ پر معلوم کیا ہےکہ ”لفظِ ثلاثہ“سے ایک ہی طلاق مراد ہوتی ہے اور یہ ہم نے کسی وکیل کےویڈیو کلپ میں سنا ہے ، اب آپ حضرات بتائیں کہ ہماری بیٹی کی کتنی طلاقیں ہوئی ہیں اور اب آگے ہمارے لئے کیا حکم ہے ، جبکہ ہم نے بیٹی کو عدّت پر بیٹھا دیا ہے۔
نوٹ : شوہر کے بقول منسلکہ طلاق نامہ از خود طلاق کی نیت سے بنوایا ہے ، اس میں نام کی غلطی کاتب کی طرف سے ہوئی ہے ، نہ کہ شوہر کیطرف سے۔
سوال میں ذکرکردہ تفصیل کے مطابق شوہر مسمیٰ خرم منظور ولد احسان الٰہی نے اگر بیوی کو طلاق دینے کی نیت و ارادے سے منسلکہ طلاق نامہ بنوایا ہو ، اس میں کاتب کی کوتاہی کیوجہ سے بیوی کا نام غلط لکھا گیا ہو تو ایسی صورت میں منسلکہ طلاق نامہ پر دستخط کرنے کیوجہ سے شرعاً مذکور شخص کی بیوی مسماۃ ربیعہ سعید ولد دخترِ اختر سعید پر طلاق نامہ میں درج تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا ، لہٰذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گنہگار ہوں گے ، اورعورت ایامِ عدّت گزارنے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
کما قال اللہ تعالی : {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ} [البقرة: 230]
و فی صحیح البخاری : عن عائشة ،" ان رجلا طلق امراته ثلاثا فتزوجت ، فطلق ، فسئل النبي صلى الله عليه و سلم : اتحل للاول ؟ قال : لا حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الاول ".(5261)۔
و فی صحیح البخاری : قال الليث ، عن نافع : كان ابن عمر إذا سئل عمن طلق ثلاثا قال : لو طلقت مرة أو مرتين ، فإن النبي صلى الله عليه و سلم أمرني بهذا ، فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرہ "(5264)۔
وفي الهندية : و إن كان الطلاق ثلاثا في الحرة و ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا و يدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها ، كذا في الهداية ۔ اھ(1/473)۔
و فی الدرالمختار : (و يقع طلاق كل زوج بالغ عاقل) و لو تقديرا ۔ بدائع ، ليدخل السكران (و لو عبدا أو مكرها)فإن طلاقه صحيح لا إقرارہ بالطلاق ۔(3/235)۔
و فی ردالمحتار : (قوله كتب الطلاق إلخ) قال في الهندية : الكتابة على نوعين : مرسومة و غير مرسومة ، و نعني بالمرسومة أن يكون مصدرا و معنونا مثل ما يكتب إلى الغائب . و غير المرسومة أن لا يكون مصدرا و معنونا ، و هو على وجهين : مستبينة و غير مستبينة، فالمستبينة ما يكتب على الصحيفة و الحائط و الأرض على وجه يمكن فهمه و قراءته . و غير المستبينة ما يكتب على الهواء و الماء و شيء لا يمكنه فهمه و قراءته . ففي غير المستبينة لا يقع الطلاق و إن نوى ، و إن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق و إلا لا۔(3/246)۔