میری بیوی ایک کام جو کہ ایک شوہر کی نزدیک نا پسندیدہ ہے، و ہ کرتی تھی منع کرنے کے باوجود بھی تو ایک دن میری ہمشیرہ کی شادی میری سالے کے ساتھ ہوئی تھی، ان کی کوئی آپس میں لڑائی ہوئی ہے تو وہ میری گھر آ گئی تھی، پھر میری بیوی جس کو کسی نے کچھ کہا بھی نہیں، اس سے اگلے دن اس کے ماں باپ آئے اور لے کر چلے گئے ، پھر اس کے جانے کے بعد مجھے پتہ چلا کہ یہ ابھی بھی وہ کام کر رہی ہے، جس سے میں نے اس کو منع کیا تھا تو اس سے کچھ دن بعد اس کا فون آیا کے میں نے صبح گھر آ جانا ہے، میں نے اُسے منع کیا کہ نہیں تم نے نہیں آنا ، میرے گھر آنے کی ضرورت نہیں ہے تو اس نے کہا کہ مجھے نوٹس دے دیں، پھر میں نے کہا کہ صبح مل جائے گا، پھر وہ صبح گھر آ گئی، میں اس سے بات کرنے گیا تو بحث شروع ہو گئی اور میں نے غصے میں کہہ دیا کہ میں نے آپ کو طلاق دی، طلاق دی، طلاق دی اور پھر میں کمرے سے نکل گیا، لیکن میں صرف بات کرنے کے ارادے سے گیا تھا، اس کے متعلق رہنمائی فرما دیں۔
صورتِ مسئولہ میں سائل نے جب اپنی بیوی کو مذکور جملہ" میں نے آپ کو طلاق دی، طلاق دی، طلاق دی " کہہ دیا، اگرچہ سائل کی نیت اس جملے سے طلاق دینے کی نہیں تھی، تب بھی اس سے سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، اب رجوع نہیں ہوسکتا اور بغیرحلالۂ شرعیہ کے دونوں کا آپس میں باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے ، جبکہ عورت ایامِ عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ۔
اور حلالۂ شرعیہ یہ ہے کہ عورت اپنے شوہر سے علیحدگی اور عدتِ طلاق گزارنے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی دوسر ے مسلمان شخص سے اپنا عقد نکاح کرے ،چنانچہ اگر وہ دوسرا شخص بھی اس سے ایک مرتبہ ہمبستری (جوکہ حلالۂ شرعیہ کےتحقق لئے ضروری ہے )کے فوراً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا بیوی سے پہلے شوہر کا انتقال ہوجائے،بہر صورت اسکی عدت گزرنے کے بعد وہ پہلے شوہر کے عقد نکاح میں آنا چاہے اور پہلا شوہر بھی اسے رکھنے پر رضامند ہو تو نئے مہر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقدِ نکاح کرکے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کرسکتے ہیں ،تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوج ثانی نکاح کے بعد طلاق دے، تاکہ زوجِ اول کیلئے عورت دوبارہ حلال ہوجائے ، مکروہِ تحریمی ہے اور احادیثِ مبارکہ میں ایسے عمل کرنے والوں کو ملعون قرار دیا گیا ہے، البتہ بغیر شرط کے بلاشبہ جائز اور درست ہے ۔
قال اللہ تعالیٰ: فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ (البقرۃ : 230 الآیة)۔
و فی احکام القرآن للجصاص: تحت ھذہ الآیة: فالكتاب و السنة و إجماع السلف توجب إيقاع الثلاث معا و إن كانت معصية (2/85)۔
و فی الھندیة: و طلاق اللاعب و الهازل به واقع و كذلك لو أراد أن يتكلم بكلام فسبق لسانه بالطلاق فالطلاق واقع كذا في المحيط اھ(1/353)۔
و فیه ایضاً: و ان کان الطلاق ثلاثا فی الحرۃ و ثنتین فی الامة لم تحل له حتی تنکح زوجا غیرہ نکاحا صحیحا و یدخل بھا ثم یطلقھا او یموت عنھا اھ (1/473)۔