السلام علیکم مفتی صاحب ! میرا سوال یہ ہے کہ میں واش روم سے باہر آیا اور میں نے اپنی زوجہ سے کہا مجھ سے ایک غلطی ہو گئی ہے ، میں نے مذاقاً کہا ، اس نے3 /4 مرتبہ پوچھا کیا ہوا ہے ، لیکن میں خاموش رہا ، میں نے کہا پھر بتاؤں گا ،جس پر اس نےمجھ سے کہا کیا آپ نے طلاق دی ہے ؟ میں پھر بھی نہیں بولا ، 3/2 مرتبہ اس نے یہی دوبارہ کہا ، جس پر میں مسکرا دیا ، میں ”حلفاً“ کہتا ہوں میں نے ایسا کچھ نہیں سوچا نہ منہ سے بولا نہ ذہن میں ایسا کچھ تھا اور نہ ہی ہماری کوئی بحث ہوئی نہ کوئی لڑائی کہ میں ایسا کچھ سوچتا یا کرتا ، اس پر روشنی ڈالیے گا ، لہٰذا مجھے اس پر فتویٰ درکار ہے ۔شکریہ
سوال میں درج کردہ بیان کے مطابق اگر سائل نے اس دوران یا اس سے قبل اپنی بیوی کیلئے طلاق کے الفاظ استعمال نہ کیے ہوں ، فقط میاں بیوی کے درمیان ہونے والے سوال میں مذکور مذاکرے سے سائل کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ، بلکہ دونوں کا نکاح بدستور قائم اور دونوں حسبِ سابق میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کر سکتے ہیں ۔
کما فی الدر المختار : (هو) ۔۔۔۔ (رفع قيد النكاح في الحال) بالبائن (أو المآل) بالرجعي (بلفظ مخصوص) هو ما اشتمل على الطلاق ۔(3/ 226)۔