کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں آپ کے مدرسہ جامعہ بنوریہ عالمیہ کے دارالافتاء سے ایک مسئلہ کے حل کے لئے درخواست دے رہا ہوں، میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں نے اپنی اہلیہ کو موبائل پر 2023۔11۔ 25 کو غصے میں آ کر تین بار طلاق دی، لیکن میری اہلیہ نے جب میں طلاق دینے لگا تو انہوں نے صرف ایک یا دو بار طلاق کا لفظ سنا اور فون کاٹ دیا ، مطلب یہ کہ انہوں نے دو بار طلاق کا لفظ سنا ہے اور فون کاٹ دیا تھا ، اب ہم دونوں بہت پریشان ہیں اور دونوں کے پاس کوئی دوسرا بندہ بھی موجود نہیں تھا، اب آپ سے مؤدبانہ گذارش ہے کہ مجھے اس مسئلہ کا کوئی حل بتائیں ، الفاظ طلاق یہ تھے ، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، یہ میں نے تین مرتبہ کہا، بیوی نے دو مرتبہ سنا ۔
واضح ہو کہ طلاق واقع ہونے کیلئے بیوی کا طلاق کے الفاظ سننا شرعاً ضروری نہیں ہے، اس کے بغیر بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل نے جب اپنی بیوی کو مذکور الفاظ " میں تمہیں طلاق دیتا ہوں " تین مرتبہ کہہ دیئے، اگرچہ سائل کی بیوی نے ایک یا دو مرتبہ الفاظ طلاق سنے ہو ں، تب بھی سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، اب رجوع نہیں ہوسکتا اور حلالۂ شرعیہ کےبغیر دونوں کا آپس میں باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے ، جبکہ عورت ایامِ عدت گزارنے کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ۔
اور حلالۂ شرعیہ یہ ہے کہ عورت اپنے شوہر سے علیحدگی اور عدت طلاق گزارنے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی دوسر ے مسلمان شخص سے اپنا عقد نکاح کرے ، چنانچہ اگر وہ دوسرا شخص بھی اس سے ایک مرتبہ ہمبستری (جوکہ حلالہ شرعیہ کےتحقق کیلئے ضروری ہے )کے فوراً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا بیوی سے پہلے شوہر کا انتقال ہوجائے ، بہر صورت اسکی عدت گزرنے کے بعد وہ پہلے شوہر کے عقدِ نکاح میں آنا چاہے اور پہلا شوہر بھی اسے رکھنے پر رضامند ہو تو نئے مہر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقدِ نکاح کرکے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کرسکتے ہیں، تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوج ثانی نکاح کے بعد طلاق دے تاکہ زوج اول کیلئے عورت دوبارہ حلال ہوجائے مکروہ تحریمی ہے، اور احادیثِ مبارکہ میں ایسے عمل کرنے والوں کو ملعون قرار دیا گیا ہے ، البتہ بغیر شرط کے بلاشبہ جائز اور درست ہے ۔
قال اللہ تعالیٰ : فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَاتَحِلَّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ (البقرۃ:230)۔
و فی الھندیة : و ان کان الطلاق ثلاثا فی الحرۃ و ثنتین فی الامة لم تحل له حتی تنکح زوجا غیرہ نکاحا صحیحا و یدخل بھا ثم یطلقھا او یموت عنھا اھ (1/473)۔
و فی رد المحتار : و لا يلزم كون الإضافة صريحة في كلامه؛ لما في البحر لو قال : طالق فقيل له من عنيت؟ فقال امرأتي طلقت امرأته اھ (3/248)۔
و فی التاتارخانیة : رجل قال لامراته طالق و لم یسم و له امراۃ معروفة طلقت استحسانا اھ (4/421)۔