کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرا بھائی ایک عرصہ سے ہمارے دور کے رشتہ داروں یعنی پھوپھی کے بیٹے ، بیٹیوں کے گھر میں رہتا ہے ، جہاں اُنکی پوری فیملیاں رہتی ہیں ، ہم جب اُس کو بلاتے ہیں تو وہ لوگ اُس کو نہیں آنے دیتے ، جبکہ ہماری ایک سگی بہن بھی ہے جو اکیلی رہتی ہے ، اس کو ضرورت ہوتی ہے کہ بھائی اُس کے ساتھ آکر رہے ، لیکن اس کے باوجود بھائی انہی کے ساتھ رہ رہا ہے ، کیا اُس کا ، اس طرح وہاں رہنا شرعاًجائز ہے؟ اور وہ رشتہ دار ہمارےغیر محرم رشتہ داروں میں شمار ہوتے ہیں یا نہیں؟ مزید یہ کہ پچھلے سال وہ گیارہ مہینے بعد واپس آیا ، اُسکی بیماری وغیرہ کے موقع پر میں نے خود اُس کا علاج کروایا ، اور جب وہ صحتیاب ہو گیا تو واپس چلا گیا اور اب جب ہم اُسکو بلاتے ہیں تو وہ فون بھی نہیں اُٹھاتے ، مجبوری یہ ہے کہ بہن کی شادی نہیں ہوئی اور وہ اکیلی رہتی ہے ، ہم چاہتے ہیں کہ وہ بھائی اس بہن کے ساتھ رہے ، اور اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرے ، بھائی عاقل و بالغ ہے ، اُسکی عمر تقریباً 52 سال ہے ، اس بارے میں جو بھی حکمِ شرعی ہو اس کے متعلق ر ہنمائی فرمائیں! جزاكم الله خير
صورتِ مسئولہ میں سائل کے بھائی کیلئے پھوپھی کے علاوہ دیگر عورتیں اسکی بیٹیاں یا بہو وغیرہ سب نا محرم ہیں ، اس لئے سائل کے بھائی کا وہاں فیملی ممبر بن کر نامحرم عورتوں سے میل جول رکھنا اور اُن کا اُس کے وہاں رہنے پر اصرار کرنا ، ہر دو امور شرعاً غلط اور نامناسب ہیں ، لہذا سائل کے مذکور بھائی کو چاہیئے کہ وہاں رہائش اختیار کرنے کے بجائے اپنے حقیقی بہن بھائیوں کے ساتھ رہائش اختیار کرنے کی ترتیب بنائے اور خصوصاً جب ایک بہن کو اکیلے رہنے کی وجہ سے اس کے ساتھ رہنے کی ضرورت بھی ہو تو اس کے باوجود اس کا یہاں نہ آنا انتہائی درجہ نامناسب عمل ہے۔
جبکہ سائل کی جس بہن کو اکیلے رہنے میں دشواری کا سامنا ہے تو اس کی شادی ہونے یا کسی محرم کا انتظام ہونے تک سائل اور اسکے دیگر بھائی اُسکواپنے ساتھ رکھیں تاکہ کسی قسم کی پریشانی سے حفاظت ہو سکے۔
کما فی الدر المختار : (و من محرمه) هي من لا يحل له نكاحها أبدا بنسب أو سبب و لو بزنا (إلى الرأس و الوجه و الصدر و الساق و العضد إن أمن شهوته) و شهوتها أيضا ذكره في الهداية فمن قصره على الأول فقد قصر ابن كمال (و إلا لا ، لا إلى الظهر و البطن)۔اھ (6/ 367)۔
و فی الفتاوىٰ الهندية : و أما النظر إلى الأجنبيات فنقول : يجوز النظر إلى مواضع الزينة الظاهرة منهن و ذلك الوجه و الكف في ظاهر الرواية ، كذا في الذخيرة . و إن غلب على ظنه أنه يشتهي فهو حرام۔اھ (5/ 329)۔