اگر بیوی شوھر پر محرم رشتوں کے ساتھ ناجائز تعلقات کا الزام لگائے اور بار بار لگائے، چاہے وہ بیوقوفی یا سادہ لوح یا حسد یا کسی بھی وجہ سے لگائے تو ایسے میں شوہر کے لئے کیا حکم ہے؟
ان الزامات کے بعد شوہر نے بیوی کو گھر بھیج دیا تھا، بیوی جاتے ہوئے اپنا حق مہر میں دیا ہوا سونا بھی بتائے بغیر ساتھ لے گئی ہے، بیوی کو گھر بھیجے ہوئے تقریباً آٹھ ماہ ہو گئے ہیں۔
ایسے میں طلاق ہو گئی ہے یا ابھی بھی طلاق دینے کی ضرورت باقی ہے، اور بیوی حق مہر لینے کی مجاز ہے یا نہیں؟
شوہر نے اگر بیوی کو زبانی یاتحریری طور پر طلاق نہ دی ہو تو اگرچہ وہ آٹھ ماہ سے شوہر سے علیحدہ ہوکر میکے بیٹھی ہوئی ہے تب بھی فقط شوہر سے الگ رہنے کی وجہ سے شرعا بیو ی پرکوئی طلاق واقع نہیں ہوئی بلکہ دونوں کا نکاح برقرار ہے اور دونوں حسب سابق میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کرسکتے ہیں،لہذا اگر دونوں میاں بیوی ایک ساتھ رہنے پر آمادہ نہ ہو تو ایسی صور ت میں شوہر کو چاہئے کہ خلع یا طلاق کے ذریعے بیوی کو اپنے نکاح کے بندھن سے آزاد کرے تاکہ وہ عدت کے بعد اپنی مرضی سے کسی دوسری جگہ نکاح کر سکے۔
جبکہ نکاح کے بعد اگر میاں بیوی کے درمیان خلوت صحیحہ ہوچکی ہو تو پھر طلاق کی صورت میں شوہر کے ذمہ پورا حق مہر دینا لازم ہوگا،البتہ اگر طلاق دینے سے قبل بیوی اپنا حق مہر معاف کرے یا شوہر حق مہر کی معافی کے عوض بیوی کو خلع دے تو ایسی صورت میں حق مہر معاف ہوجائے گا پھر شوہر کے ذمہ حق مہر کی ادائیگی لازم نہ ہوگی۔