مجھے طلاق کے متعلق مسئلہ پوچھنا ہے، میں نے اپنی بیوی کو پہلی طلاق 18 مارچ کو زبانی طور پر دی تھی ، پھر 13 اپریل کو پہلا نوٹس بھیجا ایک طلاق کا، اس کے بعد تین مہینے (مئی، جون، جولائی) تک کوئی رابطہ نہیں ہوا تھا، پھر میں نے 27 جولائی کو دوبارہ نوٹس بھیجا جس میں تین بار طلاق کالفظ لکھا ہے، اب مجھے بتائیں کہ میری طلاق یقینی ہوگئی ہے ؟
صورتِ مسئولہ میں سائل نے جب یکے بعد دیگرے دو مرتبہ طلاق دی تو اس سے سائل کی بیوی پر دو رجعی طلاقیں واقع ہو چکی تھیں، چنانچہ پہلی طلاق کے بعد اگر 27 جولائی تک عدت مکمل ہو چکی تھی، یعنی تین ماہواریاں گزر چکی تھیں اور دورانِ عدت سائل نے رجوع نہیں کیا تھا تو عدت مکمل ہونے پر دونوں کا نکاح ختم ہو چکا تھا، لہذا 27 جولائی کو جو آخری طلاق کا نوٹس سائل نے بھیجا تھا تو محل نہ ہونے کی وجہ سے وہ طلاقیں لغو ہو چکی ہیں، اور عورت فی الفور دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
تاہم اگر دونوں باہمی رضامندی سے دوبارہ ایک ساتھ رہنا چاہیں تو باقاعدہ شرعی گواہان کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ ایجاب و قبول کرنے کے بعد ایک ساتھ رہ سکتے ہیں،البتہ اس صورت میں سائل کو آئندہ کے لئے فقط ایک طلاق کا اختیار ہوگا ،اس لئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط لازم ہے۔
کما فی الدر المختار: (وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع) ومنع غيره فيها لاشتباه النسب (لا) ينكح (مطلقة)۔اھ (3/409)
وفی رد المحتار: والرجعي لا يزيل الملك إلا بعد مضي العدة۔اھ (3/400)
وفي الھداية: واذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية او تطليقتين فله أن يراجعھا في عدتھا۔اھ (2/405)
وفيها ايضاً: واذا کان الطلاق بائنا دون الثلٰث فله ان یتزوج فی العدة وبعد انقضائھا۔اھ (2/409)