کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ! اس مسئلہ کے بارے میں کہ سائلہ مسماۃ ۔۔۔کا کہنا ہے کہ شوہر مسمیٰ ۔۔۔نے کئی بار طلاق کے یہ الفاظ "تہ پہ ما طلاقہ ئی ،تہ زہ سہ تہ ناستہ ئے"یعنی تمہیں مجھ پر طلاق ہے،جاؤ کس لئے بیٹھی ہو،اور اس پر وہ حلف کے لئے بھی تیار ہے،البتہ کوئی گواہ نہیں۔
جبکہ شوہر کا کہنا ہے کہ میں نے کوئی طلاق نہیں دی ہے، اور اس پر وہ حلف اٹھانے کے لئے بھی تیار ہے،اور اس وقت سائلہ اپنی میکے میں رہ رہی ہے ،اور خرچہ ،نان و نفقہ اور بچوں کا خرچ کے سلسلے میں چھ مہینوں میں آٹھ ہزار روپے دیے ،اور یہ تقریباً چوتھی بار ہے کہ وہ میکے آئی ہے،براہِ کرم اس بارے میں رہنمائی فرما ئیں کہ اس سے طلاق ہوئی یانہیں ،اور سائلہ کے تین بچے ہیں ،جن کی عمر فائزہ آٹھ سال ، زکریا سات سال ،اور علیزہ دو سال کی ہے ،اور اب بھی حاملہ ہے،تو یہ بچے کس کے پاس رہینگے ،اور ان کا خرچہ کس پر ہے؟اور حقِ مہر پانچ تولہ سونا مقرر ہے،جس میں سے دو تولہ سونا بنا کر دے دیا تھا ،اور باقی ابھی تک نہیں دیا؟
مفتی غیب نہیں جانتا ، وہ سوال کے مطابق جواب دینے کا پابند ہوتا ہے ، سوال کے سچ یا جھوٹ پر مبنی ہونے کی اصل ذمہ داری سوال کرنے والے پر عائد ہوتی ہے ، اس مختصر تمہید کے بعد واضح ہو کہ سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق سائلہ کا بیان یہ ہے، کہ اس کے شوہر مسمیٰ نور اللہ نے اسے کئی (تین یا اس سے زائد) بار طلاق کے یہ الفاظ" تہ پہ ما طلاقہ ئی ،تہ زہ سہ تہ ناستہ ئے" یعنی تمہیں مجھ پر طلاق ہے ،جاؤ کس لئے بیٹھی ہو "کے ذریعے کئی بار طلاقیں دی ہیں ،لیکن سائلہ کے پاس اپنے موقف کو ثابت کرنے کے لئے شرعی شہادت موجود نہیں ، جبکہ شوہر طلاق دینے سے انکاری ہے ، اوروہ اپنی بات پر حلف اٹھانے کے لئے بھی تیار ہے، جب ایسی صور تحال ہو جائے کہ بیوی کئی بار الفاظِ طلاق سننا بیان کر رہی ہو ، اور اپنے بیان پر حلف اٹھانے اور قبر و آخرت کی جواب دہی کیلئے بھی تیار ہو ، لیکن بیوی کے پاس اپنے اس دعوی کو ثابت کرنے کیلئے کوئی شرعی شہادت موجود نہ ہو ، جبکہ شوہر طلاق دینے سے انکاری ہو اور وہ بھی طلاق نہ دینے پر حلف اٹھانے اور قبر و آخرت کی جواب دہی کیلئے تیار ہو ، تو ایسی صورت میں عورت پر لازم ہے کہ " المرا ۃ کا لقاضی " کے اصول کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اپنے آپ کو مطلقہ ثلاثہ سمجھے ، اور شوہر کو اپنے اوپر قطعاً قدرت نہ دے ، تاہم یہ معاملہ اگر قاضی (جج) کی عدالت میں چلا جائے ، اور قاضی طلاقوں کے متعلق گواہ نہ ہونے کی وجہ سے شوہر کی قسم پر اس کے حق میں فیصلہ دیکر بیوی کو اس کے ساتھ روانہ کر دے ، تو ایسی صورت میں بیوی اگر چہ گناہ گار نہ ہو گی ، مگر پھر بھی اسے چاہیئے کہ طلاق بالمال یا خلع کے ذریعے اپنے شوہر سے خلاصی حاصل کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے۔
كما في البحر الرائق : و المرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل لها تمكينه هكذا اقتصر الشارحون و ذكر في البزازية و ذكر الأوز جندي أنها ترفع الأمر إلى القاضي فإن لم يكن لها بينة يحلفه فإن حلف فالإثم عليه اھ(9/181) ۔
و فيه ايضاً : و كذلك إن سمعته طلقها ثلاثا ثم جحد ، و حلف أنه لم يفعل ، و ردها القاضي عليه لم يسعها المقام معه ، و لم يسعها أن تتزوج بغيره أيضا قال يعني البديع و الحاصل أنه جواب شمس الإسلام الأوز جندي و نجم الدين النسفي و السيد أبي شجاع و أبي حامد و السرخسي يحل لها أن تتزوج بزوج آخر فيما بينها و بين الله تعالى ، و على جواب الباقين لا يحل انتهى ، و في الفتاوى السراجية إذا أخبرها ثقة أن الزوج طلقها ، و هو غائب و سعها أن تعتد و تتزوج ، و لم يقيده بالديانة، و الله أعلم . قال المصنف رحمه الله و قد نقل في القنية قبل ذلك عن شرح السرخسي ما صورته طلق امرأته ثلاثا ، و غاب عنها فلها أن تتزوج بزوج أخر بعد العدة ديانة و نقل آخر أنه لا يجوز في المذهب الصحيح اھ (4/57) ۔