کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ میں کہ میری بیوی مجھ سے ناراض ہے ، میں اُس کوقرآن اور حدیث کے مطابق ہرطرح سے منا رہا ہوں ، اور اُس کی ہر ہر بات ماننے کو تیار ہوں ، لیکن وہ میری کوئی بات نہیں سن رہی ، اور مجھے کہہ دیتی ہے کہ ”میرے دل میں تمہارے لئے کوئی جگہ نہیں “ مجھے آپ سے یہ پوچھنا ہے کہ کیا اُس کے ان الفاظ سے میرا جو مقام ، حق اور مرتبہ اللہ نے بنایا ہے وہ اُن سے آزاد ہوگئی ہے ؟ میرا اُس پر یا اُس کا میرے اُوپر کوئی حق اور کوئی ہمارا مرتبہ نہیں رہا جو کہ اللہ نے دیا ہے؟ ہمیں اس پر وضاحت فرما دیں کیا وہ ان الفاظ سے یا یوں کہہ دے کہ ”ساتھ نہیں رہنا“ اس سےوہ میرے ہر حق و مرتبے سے آزاد ہو جائے گی ؟ میں تو اُس کو ہر طرح سے منا رہا ہوں ، میں اُس سے بات کرتا ہوں وہ میرے ساتھ بات نہیں کرتی ، میں اُس کے گھر منانے کیلئے جاتا ہوں تو وہ کہہ دیتی ہے کہ یہاں نہ آؤ ، ہمارے لئے بہتر کیا ہے ؟ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں!
واضح ہو کہ طلا ق کا اختیار اللہ تعالیٰ نے مرد کو دیا ہےنہ کہ عورت کو ، لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل کی بیوی کے مذکور الفاظ ”میرے دل میں تمہارے لئے کوئی جگہ نہیں“ کہنے سےنکاح پر کوئی اثر نہیں پڑا ، بلکہ دونوں کا نکاح بدستور برقرار ہے۔
جبکہ سائل کی بیوی کا مذکور طرزِ عمل شرعاً درست نہیں ، اس کو چاہیئے کہ آپس کی ناراضگی کو ختم کرکے خوش و خرم رہیں اورشوہر کی غلطی کو معاف کردے اور اپنا گھر بسانے کی فکر کرے ، سائل کو چاہیئے کہ بیوی کو احسن طریقے سے از خود یا خاندان کے بااثر افراد کے ذریعے سمجھانے کوشش کرے اور ساتھ دعاؤں کا بھی اہتمام کرے تو ان شاء اللہ اس سے فائدہ ہوگا۔
تاہم اگر ہر ممکن کوشش کے باوجود دونوں کا ایک ساتھ رہنا مشکل ہو جائے اور آپس کی لڑائی جھگڑوں کی وجہ سے دونوں کا حدود اللہ پر قائم رہتے ہوئے اس رشتہ کو برقرار رکھنا ممکن نہ ہو تو ایسی مجبوری کی صورت میں سائل اس کو ایک طلاقِ رجعی دے سکتا ہے اور اس صورت میں سائل گناہ گار بھی نہ ہوگا۔
کما فی قوله تعالیٰ : فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللّٰهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ تِلْكَ حُدُودُ اللّٰهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا۔الآیة (البقرۃ: 229)۔
و فی الدر المختار : (و لا بأس به عند الحاجة) للشقاق بعدم الوفاق الخ و فی رد المحتار تحت (قوله : للشقاق) فإن لم يصطلحا جاز الطلاق و الخلع۔اھ (3/441)۔