کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ : ہم (مسمی امین خان اور خان حسن ) اپنے عزیزوں (میاں ، بیوی) کے طلاق کے مسئلہ میں ان کو لے کر حاضر ہوئے ہیں ، آپ حضرات براہِ راست ان کے بیانات سن کر ان کے لئے حکمِ شرعی بصورتِ فتوی صادر فرمائیں ، جس کے مطابق ہمارے لئے ان کے درمیان فیصلہ کرنا آسان ہو جائے ، اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطا فرمائے ۔
بیانِ حلفی از زوجہ مسماۃ " شازیہ بنت اسماعیل" :
میں مسماۃ شازیہ بنت اسماعیل اللہ تعالی کو حاضر نا ظر جان کر حلفیہ بیان لکھوا رہی ہوں، اگر اس تحریر میں، میں قصداً جھوٹ بولوں یا کوئی بات جو اہم ہو ، وہ چھپاؤں تو مجھ پر اللہ تعالیٰ ، اس کے تمام رسولوں ، فرشتوں اور بزرگانِ دین کی لعنت ہو اور اللہ تعالیٰ کا قہر و غضب مجھ پر نازل ہو ، میرا حلفیہ بیان یہ ہے کہ غالباً ایک سال قبل بڑی عید کے چوتھے دن ، میرے شوہر ( نعمان ولدِ ایران گل ) نے مجھ سے کہا کہ گوشت پکا کردو ، چونکہ گیس نہیں تھی اور نہ ہی جلانے کے لئے لکڑیاں تھیں ، تو میں نے کہا کہ میں کیسے پکا کر دوں، شوہر کا اصرار تھا کہ جیسے بھی ہو، مجھے گوشت پکا کر دو، اسی پر لڑائی چل رہی تھی کہ شوہر نے بولا کہ " جاؤ ، نکل جاؤ ، تم مجھ پر طلاق ہو ، پشتو میں الفا ظ اس طرح تھے، خاص طور پر طلاق کے الفاظ اس طرح تھے کہ " تہ پہ ما طلاقہ ئے " یہ الفاظ اس نے نو (9) دس (10) بار بولے، اس موقع پر صرف میری نند مسماۃ ”مسکان“ موجود تھی، باقی کوئی نہیں تھا، ساس سسر بھی کہیں گئے ہوئے تھے اور یہ تقریباً 10 بجے کا ٹائم تھا ، شوہر مجھے نکلنے کا کہہ رہا تھا ، میں نے کہا کہ میں ایسے نہیں نکلوں گی، تمہارے ماں باپ آئیں گے تو پھر دیکھیں گے، الغرض بارہ (12) بجے جب ساس صاحبہ آئی تو میرے ساتھ جو ہوا تھا ، وہ سارا سنا دیا اور نند " مسکان " نے بھی تصدیق کی کہ ہاں امی میرے بھائی نے طلاق دی ہے ، اس پر ساس نے کہا کہ یہ نشئی ہے ، نشہ میں طلاق دےدی ہے اور نشہ میں طلاق نہیں ہوتی اور تاکیداً کہا کہ کسی کو کچھ نہیں بتانا اور پھر مجھے اپنےکمرے میں بھیج کر باہر سے دروازہ بند کردیا، تھوڑی دیر بعد شوہر میرے دروازے پر آکر کہنے لگا کہ اب تو امی آگئی ہے اور تمہیں میں طلاق دے چکا ہوں ، اب تو چلی جاؤ ، یہ ساری باتیں ساس بھی سن رہی تھی، میں نے بھی ساس سے کہا کہ دیکھ لیا ؟ تمہارے سامنے بھی بول دیا ہے، ساس نے وہی جواب دیا کہ یہ نشہ میں ہے اور نشہ میں طلاق نہیں ہوتی، بہر حال وہ دن گزر گیا ، رات کو سسر صاحب دیر سے آئے، جبکہ ہم سو گئے تھے، صبح ہوئی تو میرے سسر صاحب صحن میں تھے اور میں جھاڑو لگا رہی تھی، اس دوران کل کی بات ان کو بتا دی اور بتایا کہ تیرے بیٹے نے مجھے 9 ۔ 10 بار طلاق کے الفاظ بول کر طلاق دی ہے، جواب میں سسر نے کہاکہ یہ بات کسی کو بتانے کی نہیں اور خبردار کسی کو بتانا بھی نہیں اور تم میاں بیوی ہو ، ایسے طلاق نہیں ہوتی ، بہر حال میں ان لوگوں کے ناقابل برداشت دباؤ کی وجہ سے کسی کونہیں بتا سکتی تھی اور اپنے حساب سے میں نے چونکہ صاف صاف سب کو بتا دیا اور شوہر کو بھی کئی بار بتایا کہ کسی عالم سے حکمِ شرعی معلوم کرلو ، تو اس بناء پر میں نے اپنے آپ کو بری الذمہ سمجھا ،لیکن اپنے میکے میں ان لوگوں کے خوف اور ڈر کی وجہ سے نہیں بتا سکی اور اب تقریباً ایک ماہ قبل سسرال والوں نے مل کر مجھے بہت مارا پیٹا ، جس کی وجہ سے میں اپنے میکے آگئی، مجھے میرا شوہر لیکر گیا ، جب ہم میکے پہنچ گئے، شوہر ساتھ تھا، اس موقع پر میری والدہ اور چچی بیٹھی ہوئی تھی اور ابو عشاء کی نماز کیلئے گئے تھے تو میں نے نعمان سے کہا کہ پچھلے سال عید کے چوتھے دن آپ نے طلاق کے الفاظ بولے تھے تو اس پر اس نے والدہ اور چچی کے سامنے کہا کہ " ہاں 9۔10 بار دی تھی، اب پھر طلاق چاہیئے کیا ؟ اس کے بعد شوہر چلے گئے اور والد صاحب کو میں نے بعد میں ساری بات بتا دی تھی ، یہ میرا بیانِ حلفی ہے اس میں ، میں نے کسی قسم کا جھوٹ نہیں بولا اور اس سلسلے میں دنیا و آخرت میں اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی کیلئے تیار ہوں ۔
بیان حلفی از جانبِ شوہر مسمیٰ نعمان ولدِ ایران گل:
میں مسمیٰ نعمان ولدِ ایران گل اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر حلفیہ بیان دے رہا ہوں، اگر میں قصداً جھوٹ بولوں یا کوئی بات جو بتانے کی ہو، وہ چھپاؤں تو مجھ پر اللہ تعالیٰ اور اس کے تمام انبیاء کی لعنت ہو اور اللہ تعالیٰ کا قہر وغضب مجھ پر نازل ہو، میرا بیان حلفی یہ ہے کہ" مسماۃ شازیہ "نے بڑی عید کے چوتھے دن سے متعلق جو بات کی ہے کہ " میں نے اسے " تہ پہ ما طلاقہ ئے " 9۔10 بار بولا ہے تو یہ بات جھوٹ اور خلافِ واقع ہے، میں نے باتوں باتوں میں یہ بول دیا تھا کہ اگر تم میری اور میرے والدین کی خدمت نہیں کر سکتی تو میں تمہیں طلاق دے دوں گا ، پشتو کے الفاظ یہ تھے کہ " طلاق بہ درکم" جیسا وہ کہہ رہی ہے ، وہ میں تسلیم نہیں کرتا ، جبکہ تقریباً ایک ماہ قبل میکے سے متعلق جو بات مسماۃ شازیہ نے لکھی ہے کہ ان کی والدہ اور چچی کے سامنے میں نے جواباً کہا تھا کہ " ہاں 9 ۔10 بار طلاق دی تھی، اب پھر طلاق چاہیئے کیا ؟ " تو اس کے جواب میں، میں کہتا ہوں کہ یہ الزام ہے ، میں نے اس طرح کا کوئی جواب نہیں دیا، اس دوران اس سے ہٹ کر آپسی معاملات کی باتیں ہوئیں تھیں، لیکن میں نے بولا ہو کہ ہاں 9۔10 بار دی تھی ، تو ایسا قطعاً نہیں ، میں اپنے اس بیانِ حلفی کے لئے دنیا و آخرت میں اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی کے لئے تیار ہوں ۔
بیان ِ حلفی از سسر مسمیٰ ایران ولدِ رحمان گل:
میں مسمیٰ ایران گل ولدِ رحمان گل اللہ تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر حلفیہ بیان دیتا ہوں کہ میری بہو مسماۃ شازیہ نے میرے متعلق اپنے بیانِ حلفی میں جو کچھ میرے متعلق لکھا ہے، وہ سراسر خلافِ واقع، جھوٹ ہے، اس کو میں تسلیم نہیں کرتا، مجھے تو ابھی جب بات اٹھی تو ان معاملات کا پتہ چلا ، یعنی دو تین دن قبل ان طلاق کی باتوں کا پتہ چلا، اس سے قبل نہ بہو نے کچھ بتایا، نہ ہی گھر کے کسی اور فرد نے بتایا اور ابھی جب بیٹی (جن سے آپ بیان لیں گے ) نے بتایا تو سب کو میں نے ڈانٹا کہ کم از کم مجھے تو بتا دیتے تو اسی وقت کسی عالمِ دین سے رابطہ کرکے معاملات واضح اور طے کرلیتے ، بہر حال یہ میرا بیان ِ حلفی ہے، اگر میں نے اس کے اندر جھوٹ بولا ہو تو اللہ تعالیٰ کا قہر وغضب مجھ پر نازل ہو ۔
بیانِ حلفی از نند مسماۃ مسکان بنت ایران گل :
میں مسماۃ مسکان بنت ایران گل اللہ تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر حلفیہ بیان دیتی ہوں کہ بھابھی مسماۃ شازیہ نے جو بیانِ حلفی دیا ، وہ مکمل طور پر اور خاص طور سے میرے متعلق جو کچھ لکھا ہے ، وہ سراسر خلافِ واقع اور جھوٹ ہے ، میں اسے تسلیم نہیں کرتی،
میرے بھائی نے اس کی بات نہ ماننے کی وجہ سے یہ بول دیا تھا کہ " طلاق بہ در کم او پلار پہ کو ر بہ دے کینہ ووم " یعنی طلاق دے دوں گا ا ور باپ کے گھر بٹھا دوں گا اور والدہ کو بھی یہی کچھ بتا یا ، اس کے علاوہ والد صاحب کو درپیش مختلف پریشانیوں کی وجہ سے نہ اس وقت بتایا اور نہ ہی اس کے بعد بتایا ، کیونکہ بات آئی گئی ہوگئی تھی اور اب شازیہ کے اس بات کو اٹھانے کی وجہ سے انہیں پتہ چلا، جیسا کہ انہوں نے بھی بیان کیا ہے، یہ میرا بیانِ حلفی ہے، اگر میں نے جوٹ بولا ہو تو اللہ تعالیٰ کا قہر وغضب مجھ پر نازل ہو اور دنیا و آخرت میں اپنے بیانِ حلفی کیلئے اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی کے لئے تیار ہوں۔
بیانِ حلفی از ساس صاحبہ مسماۃ بانو :
میں مسماۃ بانو حلفیہ بیان دیتی ہوں کہ بہو مسماۃ شازیہ نے جو کچھ کہا، وہ سراسر خلافِ واقع جھوٹ ہے ، مجھے جو کچھ بتایا گیا وہ وہی ہے، جو میرے بیٹے نعمان اور بیٹی مسکان نے بیا ن کیا ہے، یہ میرا بیانِ حلفی ہے اور اس کے لئے ہر قسم کی جواب دہی اور صفائی دینے کے لئے تیار ہوں ۔
بیانِ حلفی از والدہ و چچی مساۃ شازیہ :
ہم دونوں (مسماۃ زر سنگ والدہ ،مسماۃ گل ناز چچی ) اللہ تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر حلفیہ بیان دیتی ہیں، اگر ہم جھوٹ بولیں تو اللہ کا قہر وغضب ہم پر نازل ہو ، ہمارا مشترکہ حلفیہ بیان یہ ہے کہ جیسا " شازیہ " نے لکھا کہ باتوں باتوں میں عید کے چوتھے دن والے واقعہ اور اس دن اس نے 9۔10 بار طلاق کے الفاظ بولنے کا قصہ اٹھا یا تو ہمارے سامنے نعمان نے غصہ ہو کر کہا کہ ہاں 9۔10 بار طلاق دیدی تھی، تو اب کیا پھر طلاق چاہیئے ؟ تو بیٹی نے کہا کہ طلاق نہیں چاہیئے بس والدہ اور چچی کے علم میں تمہاری زبانی یہ بات لانی تھی ، یہ ہمارا بیانِ حلفی ہے اور اس کے لئے ہم اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی کیلئے تیار ہیں۔
مفتی غیب نہیں جانتا، وہ سوال کے مطابق جواب دینے کا پاپند ہوتاہے، سوال کے سچ یا جھوٹ پر مبنی ہونے کی ذمہ داری سوال کرنے والے پرعائد ہوتی ہے، اس مختصر تمہید کے بعد واضح ہو کہ صورتِ مسئولہ میں بیوی مسماۃ "شازیہ بنت اسماعیل " اپنے شوہر مسمیٰ"نعمان ولدِ ایران گل" کےخلاف اسے 9۔10مرتبہ مذکور الفاظ " تہ پہ ما طلاقہ ئے " سے طلاق دینے کا دعوی کررہی ہے، جبکہ شوہر مسمیٰ ٰ"نعمان ولدِ ایران گل" مذکور جملے کےذریعہ طلاق دینےسے انکاری ہےاور شوہر کا کہنا ہےکہ میں نےیہ جملہ بالکل نہیں کہا، جبکہ بیوی کے پاس اپنا دعویٰ ثابت کرنے کیلئےشرعی شہادتِ تامہ نہیں ، اس لئے قضاءً تینوں طلاقیں واقع ہو کرحرمتِ مغلظہ ثابت ہونے کا حکم نہیں لگایا جاسکتا، لیکن جب بیوی اپنے کانوں سےالفاظِ طلاق کا سننابیان کررہی ہے اوراپنے بیان پر حلف اُٹھانے کو بھی تیار ہےتو اس پرلازم ہےکہ"المرأة كالقاضي"کے اصول کو مدِنظر رکھتے ہوئے اپنے آپ کو مطلقۂ ثلاثہ سمجھےاورشوہر کو اپنے اوپر قطعاً قدرت نہ دے، تاہم یہ معاملہ اگر قاضی (مسلم جج) کی عدالت میں چلاجائے اور قاضی طلاقوں کے متعلق گواہ نہ ہونے کی وجہ سےشوہر کی قسم پر اس کے حق میں فیصلہ دیکر بیوی کو اس کے ساتھ روانہ کردے تو ایسی صورت میں بیوی اگرچہ گنہگار نہ ہوگی، مگر پھر بھی اسے چاہیئے کہ شوہر کو اپنے اوپرہرگز قدرت نہ دے، بلکہ طلاق بالمال یا خلع کے ذریعے اپنے شوہر سے خلاصی حاصل کرنے کی ہرممکن کوشش کرے ۔
کما فی الدر المختار : و المرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل له تمكينه و الفتوى على أنه ليس لها قتله و لا تقتل نفسها بل تفدي نفسها بمال أو تهرب، كما أنه ليس له قتلها إذا حرمت عليه و كلما هرب ردته بالسحر و في البزازية عن الأوزجندي أنها ترفع الأمر للقاضي فإن حلف و لا بينة لها فالإثم عليه اھ (3/251)۔