امامت و جماعت

میاں بیوی کی جماعت میں عورت کہاں کھڑی ہو؟- عورتوں کی تنہا جماعت کا حکم

فتوی نمبر :
69836
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / نماز / امامت و جماعت

میاں بیوی کی جماعت میں عورت کہاں کھڑی ہو؟- عورتوں کی تنہا جماعت کا حکم

السلام علیکم ! 1 ۔کیا میاں بیوی آپس میں جماعت کروا سکتے ہیں اور اس کا طریقہ کیا ہوگا ؟
2 ۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا عورت ،عورت کی امامت کر سکتی ہے اور کیا تراویح پڑھا سکتی ہے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

( 1 ) واضح ہو کہ مرد کے لئے مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا سنتِ مؤکدہ ہے ، اور بلا عذر گھر میں نماز پڑھنے پر احادیثِ مبارکہ میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں ، اس لئے اولاً تو بغیر عذر اور مجبوری کے مسجد میں جماعت کی نماز ترک کرنا درست نہیں ، البتہ اگر کسی شرعی عذر کی وجہ سے مسجد کی جماعت رہ جائے اور قریب میں کسی دوسری مسجد میں جماعت ملنے کی امید بھی نہ ہو ، تو اپنی بیوی کو ساتھ ملا کر جماعت کے ساتھ نماز پڑھی جا سکتی ہے ، جس کا طریقہ یہ ہے کہ بیوی دوران جماعت شوہر کےبرابر کھڑی نہ ہو ، بلکہ شوہر سے پچھلی صف میں کھڑی ہو ۔
( 2 ) عورتوں کی تنہا جماعت مکروہ تحریمی ہے ، چاہے تراویح کی جماعت ہی کیوں نہ ہو ، البتہ اگر کوئی حافظہ اپنی منزل یاد رکھنے کی غرض سے تراویح میں قرآن سنانا چاہے ، تو اس کی گنجائش ہے مگر اس شرط کے ساتھ کہ وہ جماعت تداعی کے بغیر ، یعنی باقاعدہ آس پاس کی عورتوں کو جماعت میں شرکت کی دعوت دیئے بغیر گھر کی دو تین عورتوں کو ساتھ ملا کر جماعت کرائے ، اس طور پر کہ حافظہ صف کے درمیان کھڑی ہو ، مردوں کے امام کی طرح آگے کھڑی نہ ہو ، نیز آواز بھی اتنی رکھے کہ غیر مردوں کو آواز سنائی نہ دے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما في رد المحتار: ولنا "انه علیه الصلوۃ والسلام كان خرج ليصلح بين قوم فعاد إلى المسجد وقد صلى اهل المسجد فرجع الى منزله فجمع اهله وصلی" ( باب الامامۃ ، ج 1 ، ص 553 ، ط: سعید) –
وفي رد المحتار تحت : ( قوله فلو دخل الصف ) ذكره في البحر بحثا ، قال و كذا لو كان المقتدى رجلا و صبیاً يصفهما خلفه لحديث انس "فصففت أنا واليتيم وراءه والعجوز من ورائنا" وهذا بخلاف المرأة الواحدة فإنها تتأخر مطلقاً کالمتعددات للحدیث المذکور اھ ( باب الامامۃ ، ص 571 ) ۔
وفي رد المحتار تحت: ( قوله وخصه الزیلعی الخ ) حيث قال المعتبر في المحاذاۃ الساق والكعب في الأصح ، و بعضهم اعتبر القدم اھ فعلی قول البعض لو تأخرت عن الرجل ببعض القدم تفسد وإن كان ساقها و کعبها متأخرا عن ساقه وكعبه ، وعلى الأصح لا تفسد وان كان بعض قدمها محاذ بالبعض قدمه بأن كان اصابع قدمها عند كعبه مثلاً تأمل الخ ( باب الامامة ، ج 1 ، ص 572، ط : سعید ) ۔
وفي الدر المختار: ( و ) یكره تحريما ( جماعة النساء ) ولو فی التراویح فی غیر صلاة جنازة ( لانها لم تشرع مکررۃ ، فلو انفردن تفوتهن بفراغ أحداھن ( الی قولہ ) فإن فعلن تقف الامام وسطهن الخ (باب الامامة ، ج 1 ، ص 565 ) ۔
وفي كتاب الآثار: عن عائشة أم المؤمنين رضی الله عنها انها كانت تؤم النساء فى شهر رمضان فتقوم وسطا ، قال محمد: لا یعجب ان تؤم المرأة فإن فعلت قامت في وسط الصف مع النساء کما فعلت عائشة رضي الله عنها وهو قول الى حنيفة ( باب المرأة تؤم النساء ، ص 56 ، ط : امدادیه) –واللہ اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 69836کی تصدیق کریں
0     1190
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات