کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ میں کہ میں مسمیٰ ”فہیم احمد“نے اپنی بیوی مسماۃ ”انیلہ شکیل “ کو روز کے لڑائی جھگڑے اور میری تذلیل کرنے کی وجہ سے تنگ آکر تحریر ی طور پر تین طلاقیں دی ہیں، جسکا طلاق نامہ سوال کے ساتھ منسلک ہے، لیکن میری بیوی نہیں مان رہی، وہ کہہ رہی ہے کہ طلاق نہیں ہوئی، لیکن میرا اُسکے ساتھ دوبارہ رہنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، نیز میرا ایک بچہ بھی ہے جو تقریباً ڈیڑھ سال کا ہے، اور ابھی ماں کے پاس ہی ہے، آپ اس بارے میں رہنمائی فرمائیں کہ کیا اس طرح تحریری طور پر طلاق نامہ بنوانے سے طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں ؟ جو بھی حکمِ شرعی ہو تحریر فرمائیں! جزاکم اللہ خیراً
صورتِ مسئولہ میں سائل نے جب از خود بلا کسی جبر و اکراہ کے منسلکہ طلاق نامہ بنوا کر اُس پر دستخط کر دیئے تو اس سے سائل کی بیوی پرطلاق نامہ میں درج تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، اب رجوع نہیں ہو سکتا،اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا،لہٰذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے، جبکہ عورت ایامِ عدت گزرنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
جبکہ علیحدگی کی صورت میں لڑکے کی عمر سات سال مکمل ہونے تک اُسکی پرورش کی حقدار بچہ کی ماں ہے، بشرطیکہ اس دوران وہ اس بچے کے کسی غیر ذی محرم سے نکاح نہ کر لے، ورنہ ماں کا حقِ پرورش ختم ہوکر بچے کی نانی کو اور اس کے بعد دادی اور پھوپھی کو بالترتیب حاصل ہوگا، البتہ مذکور مدت کے بعد سائل بچے کو اپنی تحویل میں لے سکتا ہے، جبکہ دورانِ پرورش بچے کے اخراجات سائل پر لازم ہونگے۔
کما قال اللہ تعالیٰ : فان طلقھا فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره۔الآیة (البقرة:230)۔
و فی الھدایة : و ان کان الطلاق ثلاثا فی الحرۃ و ثنتین فی الامة لم تحل له حتٰی تنکح زوجا غیرہ نکاحا صحیحا و یدخل بھا ثم یطلقھا او یموت عنھا۔اھ (2/409)۔
و فی الفتاویٰ الھندية : الكتابة على نوعين : مرسومة و غير مرسومة(إلی قوله) و إن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو أما إن أرسل الطلاق بأن كتب أما بعد فأنت طالق فكلما كتب هذا يقع الطلاق و تلزمها العدة من وقت الكتابة۔اھ (378/1)۔
و فی الدر المختار : (و الحاضنة) أما، أو غيرها (أحق به) أي بالغلام حتى يستغني عن النساء و قدر بسبع و به يفتى لأنه الغالب۔اھ (3/ 566)۔