میری سالی کے شوہر نے 21-12-2023 کو طلاق کے کاغذات بھیجے ہیں جس میں 1 بار طلاق لکھا ہوا ہے. جو کہ 4-مئی-2023 کو شوہر نے دبئی سے آ کربنواۓ تھے. لیکن اس معاملے کی خبر اب تک بیوی تک نہیں پہنچی تھی، اس دوران وہ دونو ں فون پر نارمل بات کرتے تھے جب بھی اس نے نہیں بتایا، اس دوران میری سالی 9 ستمبر 2023 کو دبئی گئی تھی اور 2 ماہ تک اس کے ساتھ رہی ،لیکن اس کےشوہرنے اسکو نہیں بتایا کہ اس نے طلاق کے کاغذ پر دستخط کر دیے ہیں اوروہ اسکو جلد مل جائینگے، بیوی نومبر 2023 کو واپس کراچی آ گئی، وکیل کا کہنا ہے کہ اگست2023 میں شوہر نے کنفرم کیا تھا کہ اس پراسیس کو کمپلیٹ کرےکیونکہ ہمارا کوئی رابطہ نہیں ہےجب کہ وہ پروپر رابطے میں تھا، وکیل گورنمنٹ کی کاروائی کا انتظار کر رہا تھا، UC اور نادرا کی کاروائی پوری ہونےکے بعد وکیل نے دسمبر میں پیپر پوسٹ کر دیے،تو کیا یہ طلاق ہوگئی ہے یا شوہر کو دوبارہ طلاق دینی پڑے گی؟ عدّت کیا شروع کردی جائے یا دوبارہ طلاق کا انتظار کیا جائے؟
نوٹ:مذکور خاتون کے شوہر طلاق نامہ بنوانےسے قبل بھی فون پر تین طلاقیں دےچکاہے اور اس کے متعلق فتویٰ بھی درالافتاء بنوری ٹاؤن سے لیا ہے ، جبکہ سائل کی سالی یہ کہہ کر ان طلاقوں کا انکار کرتی ہے کہ میں نے نہیں سنی ، اس بارے میں وضاحت فرمائیں۔
سوال میں درج کردہ تفصیل اور منسلکہ فتویٰ کے مطابق تحریری طلاق دینے سے قبل جب شوہر نے زبانی طور پر تین طلاقیں دیدی ہیں اگرچہ بیوی نے الفاظِ طلاق نہ سنے ہو ں اور اس کےبعد عدت کادورانیہ بھی مکمل ہوچکا ہے، تو چونکہ اس کی وجہ سے بیوی اجنبیہ بن چکی ہے ، اس لئے اب تحریری طور پر دی جانےوالی طلاق کا شرعاً کوئی اعتبارنہیں ،بلکہ وہ محل نہ ہونے کی وجہ سے لغو ہوچکی ہیں،چنانچہ اب تحریری طلاق کےبعد عورت کے ذمہ دوبارہ عدت گزارنا لازم نہیں ، تاہم تین طلاقوں کےبعد دونوں کےلئے میاں بیوی کی طرح رہنا جائز نہیں تھا، چنانچہ اگر تین طلاقوں کےبعد دونوں میاں بیوی کی طرح رہے تو اس پر انہیں توبہ و استغفار اور اگر شوہرنے اس کےبعد بھی بیوی کو حلال سمجھ کر اس کےساتھ ازواجی تعلق قائم کیاہوتو ایسی صورت میں وطی بالشبہ کی وجہ سے بیوی کےذمہ آخری دفعہ کی ہمبستری کےبعد سے عدت گزارنا بھی لازم ہوگا۔
کماقال اللہ تعالی: {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ} (البقرة:230)۔
وفی الدر المختار: (ومبدأ العدة بعد الطلاق و) بعد (الموت) على الفور (وتنقضي العدة وإن جهلت) المرأة (بهما) أي بالطلاق والموت لأنها أجل فلا يشترط العلم بمضيه سواء اعترف بالطلاق، أو أنكر.(3/ 520)۔
وفی رد المحتار : (تحت قوله: وإذا وطئت المعتدة) أي من طلاق، أو غيره منتقى، وكذا المنكوحة إذا وطئت بشبهة ثم طلقها زوجها كان عليها عدة أخرى وتداخلتا كما مر في الفتح وغيره (قوله: بشبهة) متعلق بقوله وطئت، وذلك كالموطوءة للزوج في العدة بعد الثلاث بنكاح، وكذا بدونه إذا قال ظننت أنها تحل لي، أو بعدما أبانها بألفاظ الكناية، وتمامه في الفتح۔(3/ 518)۔
الفتاوى الهندية: (فصل فيمن يقع طلاقه وفيمن لا يقع طلاقه) يقع طلاق كل زوج إذا كان بالغا عاقلا سواء كان حرا أو عبدا طائعا أو مكرها كذا في الجوهرة النيرة۔(1/ 353)۔
البحر الرائق شرح كنز الدقائق: (قوله ومبدأ العدة بعد الطلاق والموت) يعني ابتداء عدة الطلاق من وقته وابتداء عدة الوفاة من وقتها سواء علمت بالطلاق والموت أو لم تعلم حتى لو لم تعلم ومضت مدة العدة فقد انقضت؛ لأن سبب وجوبها الطلاق أو الوفاة فيعتبر ابتداؤها من وقت وجود السبب كذا في الهداية۔(4/ 157)