السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! کیا فرماتے ہیں علماء کرام درج ذیل مسائل کے بارے میں کہ:
1۔ اگر والدین نے اپنی زندگی میں کوئی قیمتی چیز، مثلاً طلائی زیورات، پلاٹ وغیرہ اولاد کو دے دیا ، بعد میں کیا والدین اس کو واپس لے سکتے ہیں یا پھر اس میں کسی اور بہن بھائی کو شریک کیا جا سکتا ہے؟
2۔ والد صاحب نے ایک بچے کے نام پر پلاٹ لیا، سارے کاٖغذات پر بچے کا نام لکھا ہوا ہے، لیکن اس پلاٹ کی فائل کا قبضہ کبھی اس بچے کو نہیں دیا ، بلکہ اس بچے کے بڑے بھائی کو فائل دے کر بتایا کے یہ پلاٹ چھوٹے بھائی کا ہے، ایسے میں والد صاحب کے انتقال کے بعد اس پلاٹ کے بارے میں کیا حکم ہے؟ جزاک اللہ خیراً
واضح ہوکہ اگر والدین اپنی صحت والی زندگی میں بیٹے یا بیٹی کو کوئی قیمتی چیز باقاعدہ مالکانہ طور پر دیدیں ، تو وہ بیٹا / بیٹی اس چیز کے مالک بن جائیں گے، والدین کے لئے اپنے ہبہ سے رجوع کرنا یا اس بیٹے/بیٹی کی رضامندی کے بغیر اس چیز میں کسی اور کو شریک کرنا شرعاً جائز نہیں ، جس سے بہر صورت اجتناب لازم ہے، جبکہ والدین اپنی نابالغ اولاد کے لئے اس کے نام پر کوئی چیز خرید کر اس پر بطور سرپرست اور وکیل بیٹےکی طرف سے قبضہ کر لیں، تو نابالغ بیٹا اس چیز کا مالک بن جائیگا، لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کے والد نے اپنے نابالغ بچہ کے نام پر مذکور پلاٹ خریدا ہو،پھر اس کی فائل بڑے بیٹے کو دیدی ہو،اوراسے یہ بتایاہو کہ یہ پلاٹ چھوٹے بھائی کا ہے تو مذکور نابالغ بچہ اس پلاٹ کا مالک بن گیا ، لہذا والدین کے انتقال کی صورت میں مذکور پلاٹ میں وراثت جاری نہیں ہوگی۔
كما في بدائع الصنائع: ( ومنها) ما هو في معنى العوض. وهو ثلاثۃ أنواع الأول صلة الرحم المحرم فلا رجوع في الهبة لذى رحم محرم. من الواهب وهذا عندنا (إلى قوله) (ولنا ) ما روينا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال : ) الواهب أحق بهبته ما لم يثب منها أى لم يعرض وصلة الرحم عوض معنى لأن التواصل سبب التناصر والتعاون في الدنيا فيكون وسيلة إلى استيفاء النصرة وسبب الثواب في الدار الآخر فكان أقوى من المال الخ (ج1 ص ۱۳۲ ط: سعید)
و في الهندية: ولا يرجع فی الهبة من المحارم بالقرابۃ كالآباء والأمهات وإن علوا والأولاد وإن سفلوا وأولاد البنين والبنات في ذلك سواء الخ (ج 4 ص 387 ط: ماجدیہ)۔
و فی الدر المختار : ( وان وهب له اجنبي يتم بقبض وليه وهو أحد أربعة : الأب، ثم وصیتہ،ثم الجد، ثم وصیتہ، الخ (ج 5 ص 695 ط: سعید)۔