کیافرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ میں مسمیٰ سیف الرحمن ولد عمر خان کا نکاح آج سے تقریباً سات سال قبل ہوگیاتھا ،اس نکاح سے ہمارا ایک بیٹا بھی ہے آج سے تقریباً ڈیڑھ سال قبل لڑائی جھگڑے کے دوران غصہ کی حالت میں اپنی بیوی کودومرتبہ یہ الفاظ بولے تھے ”تہ زمامورخورئے “(تم میری ماں بہن ہو،اور اس کے بعد ہم بدستور میاں بیوی کی طرح رہتے رہے ابھی تقریباً پچیس دن یا مہینہ قبل پھر لڑائی جھگڑے کے دوران یہ کہا ”تہ زمامورخورئے “دومرتبہ بولا، توبیوی نے کہا کہ اس سے تو جان نہیں چھوٹی تو میں نے تین پتھر اٹھائے اور کہا کہ تم مجھ پر تین پتھر پر طلاق ہو ”تہ پہ ماپہ درے کا نڑو طلاقہ ئے “اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوئیں اوراب ہمارے لئے کیا حکم ہے ،یادرہےکہ پہلی مرتبہ کے الفاظ بولنے کے بعد ہم نے احتیاطاً اور ثواب کی نیت سے تجدید نکاح بھی کرلیاتھا۔
صورتِ مسؤلہ میں سائل کی بیوی پرتینوں طلاقیں واقع ہوکرحرمتِ مغلّظہ ثابت ہوچکی ہے ،اب رجوع نہیں ہوسکتا اور بغیر حلالۂ شرعیہ دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہوسکتا، لہذا دونوں میاں بیوی پر لازم ہےکہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اورمیاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہونگے،جبکہ عورت ایّام عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ۔
اور حلالۂ شرعیہ یہ ہےکہ عورت اپنےشوہرسےعلیحدگی اورعدت طلاق گزارنےکےبعدبغیرکسی شرط کےکسی دوسرےمسلمان سےنکاح کرےاور حقوقِ زوجیت اداکرے،چنانچہ اگر وہ دوسراشخص بھی اس سےایک مرتبہ ہمبستری(جو کہ حلالۂ شرعیہ کےتحقق کےلئےضروری ہے)کےفوراً بعدیا پھرازدواجی زندگی کےکچھ عرصہ بعدطلاق دیدے،یا بیوی سے پہلے شوہر کا انتقال ہوجائے،بہر صورت اس کی عدت گزارنے کےبعداگروہ پہلےشوہرکےنکاح میں آنا چاہے،اورپہلاشوہربھی اس کورکھنے پر رضامندہو،تونئے مہر کےساتھ دوگواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقدِنکاح کرکےباہم میاں بیوی کی حیثیت سےزندگی بسرکرسکتے ہیں،تاہم حلالہ اس شرط کےساتھ کرناکہ زوجِ ثانی بیوی کونکاح کےبعدطلاق دےگا،تاکہ وہ زوجِ اول کےلئےحلال ہوجائےمکروہ ہے،جس پر احادیثِ مبارکہ میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں،البتہ بغیرکسی شرط کےا س کےساتھ نکاح کرنابلاشبہ جائزاوردرست ہے۔
قال اللہ تعالیٰ : فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ الآیہ (البقرۃ:230)۔
و فی صحیح البخاری : قال الليث ، عن نافع: كان ابن عمر إذا سئل عمن طلق ثلاثا قال: لو طلقت مرة أو مرتين ، فإن النبي صلى الله عليه و سلم أمرني بهذا ، فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرہ "(5264)۔
وفی الھندیہ: (وأما البدعي) فنوعان بدعي لمعنى يعود إلى العدد وبدعي لمعنى يعود إلى الوقت (فالذي) يعود إلى العدد أن يطلقها ثلاثا في طهر واحد أو بكلمات متفرقة أو يجمع بين التطليقتين في طهر واحد بكلمة واحدة أو بكلمتين متفرقتين فإذا فعل ذلك وقع الطلاق وكان عاصيا.(1/349)۔