السلام علیکم !محترم امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے ، میرا ایک سوال ہے اس کے بارے میں جواب یا فتویٰ درکار ہے ، سوال مندرجہ ذیل ہے :
سوال: میں ایک پولیس ملازم ہوں ، اور ہمارے پولیس لائن میں ایک امام صاحب ہے جو کہ نابینا ہے ، اور وہ اکثر امامت کراتا ہے، بعض لوگوں سے ایسا سنا ہے کہ ایسے شخص کی امامت درست نہیں ہوتی ، جبکہ وہ خود اس بارے میں فرماتا ہے کہ میں شادی شدہ ہوں، اور میری بیوی نہایت پاکدامن اور پرہیز گار عورت ہے ، وہ مجھے وضو وغیرہ کی تیاری اور صاف اور پاکیزہ کپڑے پہننے میں معاونت کرتی ہے ، اس لیے میری امامت درست ہے، کیا فرماتےہیں ہمار ا دینِ اسلام اس بارے میں کہ کیا ایسے نابینا شخص کی امامت میں نماز پڑھنا درست ہے یا نہیں؟ جواب سے مشکور فرمائیں۔والسلام!
مذکور نابینا شخص اگر متقی و پرہیزگار ہو ، اور درست قراءت کرنے کے ساتھ ساتھ مسائلِ نماز بھی اچھی طرح جانتا ہو ، اور صفائی ستھرائی کے معاملہ میں بھی محتاط ہو ، تو ان کی اقتداء میں نماز پڑھنا بلاکراہت درست ہے ۔
کما فی رد المحتار : قيد كراهة إمامة الأعمى في المحيط وغيره بأن لا يكون أفضل القوم ، فإن كان أفضلهم فهو أولى إلخ ( ج 1 ، ص 560 ، ط : سعید ) ۔
و فی البحر الرائق : أطلق الكراهة في هؤلاء وقيد كراهة إمامة الأعمى في المحيط و غيره بأن لا يكون أفضل القوم، فإن كان أفضلهم فهو أولى وعلى هذا يحمل تقديم ابن أم مكتوم؛ لأنه لم يبق من الرجال الصالحين للإمامة في المدينة أحد أفضل منه حينئذ و لعل عتبان بن مالك كان أفضل من كان يؤمه إلخ ( ج 1 ، ص 369 ، باب الأحق بالإمامۃ ) ۔