السلام علیکم ! میرا سوال یہ ہے کہ میں نے اپنی بیوی کوایک سال پہلے طلاق دی تھی ، لیکن جب میں نے طلاق دی تو اس نے فون بند کر دیا اور اس نے طلاق کا ایک لفظ بھی نہیں سنا ، کچھ دنوں کے بعد میں نے جعلی گواہوں کے ساتھ طلاق کے کاغذات بھیجے ، کیونکہ جب میں نے طلاق دی ، تب میں اکیلا تھا ، کیا میں اب بھی اپنی سابقہ بیوی کے ساتھ نیا نکاح کر سکتا ہوں؟ براہ کرم مجھے جلد از جلد جواب دیں ۔ جزاک اللہ
نوٹ : میں نے جب طلاق دی تھی اس وقت ایسے کہا تھا ، میں محمد احسن اپنے پورے ہوش میں آپ کو طلاق دیتا ہوں طلاق دیتا ہوں طلاق دیتا ہوں ، لیکن جب لڑکی نے میرا نام ہی سن لیا تو اس کو پتہ چل گیا تھا کہ میں اس کو طلاق دینے لگا ہوں ، اس لیے اس نے کال کاٹ دی اور کچھ نہیں سنا کہ میں نے کیا کہا ، اور طلاق نامہ میں جن گواہوں کا دستخط ہیں ، اس کا انتظام وکیل نے کہیں سے خود کیا تھا ، میں اپنی غلطی کو درست کرنا چاہتا ہوں براہ کرم راہ نمائی فرمائیں ۔ جزاک اللہ خیر !
واضح ہو کہ شوہر کا بیوی کی طرف نسبت کرتے ہوئے الفاظ طلاق کہہ دینے سے شرعاً طلاق واقع ہو جاتی ہے ، وقوع طلاق کے لئے بیوی کا الفاظ طلاق سننا یا مجلس طلاق میں موجود ہونا ضروری نہیں، بلکہ اس کے بغیر بھی شرعاً طلاق واقع ہو جاتی ہے ، لہذا سائل نے جب اپنی بیوی کو مذکور الفاظ طلاق " میں پورے ہوش و حواس میں آپ کو طلاق دیتا ہوں الخ " تین بار کہہ دئیے ، اگر چہ بیوی نے رابطہ منقطع کرنے کی وجہ سے مذکور الفاظ نہ سنے ہوں ، تب بھی ان الفاظ کہنے کے ساتھ ہی اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت چکی ہے ، اب رجوع نہیں ہو سکتا ، اور حلالہ شرعیہ کے بغیر باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا ، اور عورت ایّامِ عدت گزارنے کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ، جبکہ بعد میں تحریری طور پر دی جانے والی طلاق محل نہ ہونے کی وجہ سے لغو ہو چکی ہے ۔
كما في بدائع الصنائع : وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك ، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر ؛ لقوله عز وجل : فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة الخ ( فصل و أما حكم البائن ، ج 3 ، ص 187 ، ط : سعيد ) –
وفي رد المحتار تحت ( قوله كأنت طالق ) وكذا لو أتى بالضمير الغائب أو اسم الاشارة العائد إليها أو باسمها العلمي ونحو ذلك الخ ( مطلب في قوله علي الطلاق من ذراعي ، ج 3 ، ص 256 ، ط : سعيد ) -