کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ میں مسمیٰ محمد سکندر نے گھریلو لڑائی جھگڑے کے دوران اپنی بیوی مسماۃ فضہ کو تین مرتبہ طلاق کے الفاظ بول دئیے ہیں،کہ جا میں نے تمہیں طلاق دی ،میں طلاق نہیں دینا چارہا تھا لیکن منھ سے یہ الفاظ نکل گئے اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں طلاقیں واقع ہوئیں کہ نہیں اور اب ہمارے لئے کیا حکم ہے ؟
صورتِ مسئولہ میں سائل مسمیٰ ۔۔۔۔نے جب ا پنی بیوی مسماۃ۔۔۔ کو مذکور الفاظ”جا میں نے تمہیں طلاق دی“ تین مرتبہ کہہ دئیے ہیں،تو اس سے سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے،اب رجوع نہیں ہوسکتا ،اور بغیر حلالہ شرعیہ کے دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہوسکتا ،جبکہ سائل کی بیوی ایامِ ِعدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
اور حلالۂ شرعیہ یہ ہےکہ عورت اپنےشوہرسےعلیحدگی اورعدتِ طلاق گزارنےکےبعدبغیرکسی شرط کےکسی دوسرےمسلمان سےنکاح کرےاور حقوقِ زوجیت اداکرے،چنانچہ اگر وہ دوسراشخص بھی اس سےایک مرتبہ ہمبستری(جو کہ حلالہ شرعیہ کےتحقق کےلیےضروری ہے)کےفوراً بعد یا پھرازدواجی زندگی کےکچھ عرصہ بعدطلاق دیدے،یابیوی سے پہلےشوہرکا انتقال ہوجائے،بہرصورت اس کی عدت گزارنےکےبعداگروہ پہلےشوہرکےنکاح میں آناچاہے، اورپہلاشوہربھی اس کو رکھنےپررضامندہو،تونئے مہرکےساتھ دو گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقدِنکاح کرکےباہم میاں بیوی کی حیثیت سےزندگی بسرکرسکتے ہیں،تاہم حلالہ اس شرط کےساتھ کرناکہ زوج ثانی بیوی کو نکاح کےبعدطلاق دےگا،تاکہ وہ زوج اول کےلیےحلال ہوجائےمکروہ ہے،جس پر احادیثِ مبارکہ میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں،البتہ بغیرکسی شرط کےا س کےساتھ نکاح کرنابلاشبہ جائزاوردرست ہے۔
قال اللہ تعالیٰ: قال اللہ تعالی: فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ الایة(البقرہ:230)۔
کما فی الھندیة: وفی الھندية: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية اھ(1/473)۔