طلاق

طلاق نامہ پر پڑھے بغیر دستخط کرنے سے طلاق کا حکم

فتوی نمبر :
70090
| تاریخ :
2024-01-02
معاملات / احکام طلاق / طلاق

طلاق نامہ پر پڑھے بغیر دستخط کرنے سے طلاق کا حکم

میرا سوال یہ ہے کہ میں نے بغیر پڑھے دستخط کیا ہے ، تو کیا طلاق ہوگئی ہے؟ کیونکہ میں دینا نہیں چاہتا تھا ، دو سال پہلے بھی اس کی یہ خواہش رہی کہ وہ مجھ سے طلاق چاہتی تھی ، تو خلع کا کیس کرنے کے بجائے اپنے بھائی کے ساتھ وکیل سے اس نے طلاق نامہ بنوایا تھا کورٹ میں ، دو سال پہلے کی بات ہے ، تو پھر بہت محنت اور محبت سے سمجھاکر اُسے روکا تو وہ مان گئی ، لیکن اب 3 نومبر 2023 کو اس نے بہت جھگڑا کرا ، اور کہا کہ وہ کورٹ میں درخواست خلع کی کرے گی ، میں نے کہا کہ میں نہیں آؤنگا ،تو بولی کہ بھائی پولیس لے کر آئیں گے تو کیا عزت رہ جائے گی آپ کی ، جب پولیس گھر آئیں گے تو سوچئے جوان بیٹی ہے آپ کی ، اتنی بدنامی ہوگی ، بہر حال دو ڈھائی گھنٹے کی بحث اور چیخ و پکار کے بعد بس جب پولیس کی بات آئی تو اپنی اور اپنی بیٹی کی بدنامی سے بچنے کےلئے اس کا مطالبہ پورا کردیا ، نہ تو میں نے طلاق نامہ پڑھا تھا ، اور اس وقت تک یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ اس پہ تاریخ 5 ستمبر 2021 ہے ،مضمون میں یہ لکھا تھا کہ میں (میری بیوی کا نام ) " تین بار بہ آوازِ بلند کہہ دیا سنا دیا " جبکہ زبان سے ایک بار بھی نہیں بولا ، میں نے تو سنا بھی نہیں اور طلاق نامہ میں تاریخ بھی پرانی ہے ، اب وہ بچوں کی وجہ سے پریشان ہورہی ہے ، تو میں پوچھتا ہوں کہ واپس اپنا گھر جوڑ لوں ، اسے بھی دو مہینوں میں عقل آگئی ہے ، تو مفتی صاحب میرے لئے ممکن راستہ نکال دیں واپسی کا ؟ کہ اپنی فیملی کے ساتھ خوشیوں بھری زندگی گزار لوں ، بس یہ ہے کہ اپنی عزت بچانے کے لئے ان لوگوں کے جبر اور دباؤ میں آکر دستخط کیا تھا ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ جس طرح زبانی طلاق دینے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے اسی طرح پہلے سے بنے طلاق نامہ پر دستخط کرنے سے بھی شرعاً طلاق واقع ہوجاتی ہے ،لہذا سائل نے اگرچہ بدنامی سے بچنے کے لئے منسلکہ طلاق نامہ پر بغیر پڑھے دستخط کردیے ہوں تب بھی اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے ، اب رجوع نہیں ہوسکتا ، اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا ، اس لئے دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں، اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں ،ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہونگے ، جبکہ عورت ایامِ عدت گزارنے کے بعداپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی ۔
اور حلالۂ شرعیہ یہ ہے کہ عورت ایامِ عدت کے بعد بغیر کسی شرط کےکسی دوسرے شخص سے اپنا عقدِ نکاح کرے ، چنانچہ اگر وہ دوسرا شخص بھی اس سے ایک مرتبہ کی ہمبستری ( جو کہ حلالۂ شرعیہ کے تحقق کےلئے ضروری ہے ) کے فوراً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد اسے طلاق دیدے یا طلاق تو نہ دے مگر اس کا پہلے انتقال ہوجائے ، تو بہر صورت اس کی عدت گزارنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے عقدِ نکاح میں آنا چاہے اور پہلا شوہربھی اسےرکھنےپررضامند ہو تو نئے مہر پر گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقدِ نکاح کرکےباہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسرکرسکتے،تاہم حلالہ ا س شرط کے ساتھ کرنا کہ زوجِ ثانی ہمبستری کے بعد بیوی کو طلاق دیگا تاکہ زوجِ اول دوبارہ اس کے ساتھ عقدِ نکاح کرے یہ مکروہِ تحریمی ہے ، اس پر احادیث ِمبارکہ میں وعید یں وارد ہوئی ہیں ، لہٰذا ایسے حلالہ سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما قال اللہ تعالی : فان طلقھا فلاتحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ الآیۃ ( سورۃ البقرۃ آیت 230 ) ۔
و فی احکام القرآن للجصاصؒ : ( فلاتحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ) فحکم بتحریمھا علیہ بالثالثۃ بعد الاثنین و لم یفرق بین ایقاعھما فی طھر واحد او فی اطھار فوجب الحکم بایقاع الجمیع علی ایّ وجہ اوقعہ الخ (ج1 ص 386 ط: سھیل اکیڈیمی لاھور باکستان ) ۔
و فی جامع الترمذی : عن ابی ھریرۃقال قال رسول اللہ ﷺ ثلاث جدھن جد و ھزلھن جد ، النکاح و الطلاق و الرجعۃ ھذا حدیث حسن غریب ( ج1 ص 225 باب ما جاء فی الجد و الھزل فی الطلاق ط: المیزان ) ۔
و فی ردالمحتار تحت : ( قولہ کرر لفظ الطلاق ) بان قال للمدخولۃ : انت طالق ، انت طالق انت طالق ، ( الی قولہ ) ( و ان نوی التاکید دین ) ای و وقع الکل قضاء الخ ( ج3 ص 293 باب طلاق غیر المدخول بھا ) ط: سعید ) ۔
و فی الھندیۃ : الکتابۃ علی نوعین : مرسومۃ و غیر مرسومۃ و نعنی بالمرسومۃ ان یکون مصدراً و معنونا مثل ما یکتب الی الغائب و غیر المرسومۃ ان لا یکون مصدراً و معنونا ( الی قولہ ) و ان کانت مرسومۃ یقع الطلاق نوی او لم ینو الخ ( ج1 ص 278 کتاب الطلاق ط: ماجدیۃ ) ۔ واللہ اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد ابراہیم اسماعیل عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 70090کی تصدیق کریں
0     1560
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • تحریر کردہ طلاق نامہ کے ذریعہ طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 6
  • مذاق میں بیوی کو طلاق کاغذ پر لکھ کر دیدی

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • بیوی کو حرام زادی کہنے سے نکاح متاثرہوگا؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   طلاق 2
  • دل دل میں طلاق دینا

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • ایک کاغذپر تین طلاق لکھ کر دینے سے کتنی طلاقیں واقع ہوں گی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 2
  • تم میری بہن کی طرح ہو کہنے سے بیوی پر طلاق واقع ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • بیرون ملک شادی کے لئے پہلی بیوی کے نام عارضی طلاق نام بنوانا

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 2
  • پچپن میں نکاح کے بعد بالغ ہونے پر لڑکا پاگل ہوگیا طلاق کیسے ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • اسلام قبول کرنے کے بعد عیسائی شوہرسے نکاح خودبخودختم ہوجاتاہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   طلاق 0
  • طلاق نامہ پر دستخط کرنے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • حمل کی حالت میں طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • طلاق کا واقعہ سنانے سے مزید طلاق واقع ہونے سے متعلق سوال

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • "میں تم کو طلاق دیتا ہوں "بیوی کو غصہ میں تین دفعہ بول دینا

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • بیوی کی غیر موجودگی میں, سسر کو تین بار کہہ دینا کہ" میں نے تیری بیٹی کو طلاق دیدی "

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • ایک مجلس میں تین طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • بیوی کو ڈرانے کے لیے الفاظ طلاق بولنا

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • واٹس اپ کی ریکارڈنگ کے ذریعے طلاق

    یونیکوڈ   انگلش   طلاق 3
  • بیوی کی غیر موجودگی میں اس کی طرف نسبت کئے بغیر طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • وقوع طلاق کے لیے گواہ شرط ہے؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • یونین کونسل کی جانب سے پہلی طلاق کا نوٹس بھیجے جانے سے مزید وقوعِ طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • بیوی کو طلاق کا مسئلہ سمجھاتے ہوئے الفاظ طلاق کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • موبائل پر طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • لفظِ " فارغ "سے طلاق واقع ہونے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 4
  • بیوی نے کہا کہ "مہر دو اور جانے دو" جواب میں شوہر کا "ٹھیک ہے " کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • "طلاق لو اور جاؤ" کہنے سے طلاق ہوگی یا نہیں؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
Related Topics متعلقه موضوعات