میرا سوال یہ ہے کہ میں نے بغیر پڑھے دستخط کیا ہے ، تو کیا طلاق ہوگئی ہے؟ کیونکہ میں دینا نہیں چاہتا تھا ، دو سال پہلے بھی اس کی یہ خواہش رہی کہ وہ مجھ سے طلاق چاہتی تھی ، تو خلع کا کیس کرنے کے بجائے اپنے بھائی کے ساتھ وکیل سے اس نے طلاق نامہ بنوایا تھا کورٹ میں ، دو سال پہلے کی بات ہے ، تو پھر بہت محنت اور محبت سے سمجھاکر اُسے روکا تو وہ مان گئی ، لیکن اب 3 نومبر 2023 کو اس نے بہت جھگڑا کرا ، اور کہا کہ وہ کورٹ میں درخواست خلع کی کرے گی ، میں نے کہا کہ میں نہیں آؤنگا ،تو بولی کہ بھائی پولیس لے کر آئیں گے تو کیا عزت رہ جائے گی آپ کی ، جب پولیس گھر آئیں گے تو سوچئے جوان بیٹی ہے آپ کی ، اتنی بدنامی ہوگی ، بہر حال دو ڈھائی گھنٹے کی بحث اور چیخ و پکار کے بعد بس جب پولیس کی بات آئی تو اپنی اور اپنی بیٹی کی بدنامی سے بچنے کےلئے اس کا مطالبہ پورا کردیا ، نہ تو میں نے طلاق نامہ پڑھا تھا ، اور اس وقت تک یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ اس پہ تاریخ 5 ستمبر 2021 ہے ،مضمون میں یہ لکھا تھا کہ میں (میری بیوی کا نام ) " تین بار بہ آوازِ بلند کہہ دیا سنا دیا " جبکہ زبان سے ایک بار بھی نہیں بولا ، میں نے تو سنا بھی نہیں اور طلاق نامہ میں تاریخ بھی پرانی ہے ، اب وہ بچوں کی وجہ سے پریشان ہورہی ہے ، تو میں پوچھتا ہوں کہ واپس اپنا گھر جوڑ لوں ، اسے بھی دو مہینوں میں عقل آگئی ہے ، تو مفتی صاحب میرے لئے ممکن راستہ نکال دیں واپسی کا ؟ کہ اپنی فیملی کے ساتھ خوشیوں بھری زندگی گزار لوں ، بس یہ ہے کہ اپنی عزت بچانے کے لئے ان لوگوں کے جبر اور دباؤ میں آکر دستخط کیا تھا ۔
واضح ہو کہ جس طرح زبانی طلاق دینے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے اسی طرح پہلے سے بنے طلاق نامہ پر دستخط کرنے سے بھی شرعاً طلاق واقع ہوجاتی ہے ،لہذا سائل نے اگرچہ بدنامی سے بچنے کے لئے منسلکہ طلاق نامہ پر بغیر پڑھے دستخط کردیے ہوں تب بھی اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے ، اب رجوع نہیں ہوسکتا ، اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا ، اس لئے دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں، اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں ،ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہونگے ، جبکہ عورت ایامِ عدت گزارنے کے بعداپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی ۔
اور حلالۂ شرعیہ یہ ہے کہ عورت ایامِ عدت کے بعد بغیر کسی شرط کےکسی دوسرے شخص سے اپنا عقدِ نکاح کرے ، چنانچہ اگر وہ دوسرا شخص بھی اس سے ایک مرتبہ کی ہمبستری ( جو کہ حلالۂ شرعیہ کے تحقق کےلئے ضروری ہے ) کے فوراً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد اسے طلاق دیدے یا طلاق تو نہ دے مگر اس کا پہلے انتقال ہوجائے ، تو بہر صورت اس کی عدت گزارنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے عقدِ نکاح میں آنا چاہے اور پہلا شوہربھی اسےرکھنےپررضامند ہو تو نئے مہر پر گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقدِ نکاح کرکےباہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسرکرسکتے،تاہم حلالہ ا س شرط کے ساتھ کرنا کہ زوجِ ثانی ہمبستری کے بعد بیوی کو طلاق دیگا تاکہ زوجِ اول دوبارہ اس کے ساتھ عقدِ نکاح کرے یہ مکروہِ تحریمی ہے ، اس پر احادیث ِمبارکہ میں وعید یں وارد ہوئی ہیں ، لہٰذا ایسے حلالہ سے احتراز لازم ہے۔
کما قال اللہ تعالی : فان طلقھا فلاتحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ الآیۃ ( سورۃ البقرۃ آیت 230 ) ۔
و فی احکام القرآن للجصاصؒ : ( فلاتحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ) فحکم بتحریمھا علیہ بالثالثۃ بعد الاثنین و لم یفرق بین ایقاعھما فی طھر واحد او فی اطھار فوجب الحکم بایقاع الجمیع علی ایّ وجہ اوقعہ الخ (ج1 ص 386 ط: سھیل اکیڈیمی لاھور باکستان ) ۔
و فی جامع الترمذی : عن ابی ھریرۃقال قال رسول اللہ ﷺ ثلاث جدھن جد و ھزلھن جد ، النکاح و الطلاق و الرجعۃ ھذا حدیث حسن غریب ( ج1 ص 225 باب ما جاء فی الجد و الھزل فی الطلاق ط: المیزان ) ۔
و فی ردالمحتار تحت : ( قولہ کرر لفظ الطلاق ) بان قال للمدخولۃ : انت طالق ، انت طالق انت طالق ، ( الی قولہ ) ( و ان نوی التاکید دین ) ای و وقع الکل قضاء الخ ( ج3 ص 293 باب طلاق غیر المدخول بھا ) ط: سعید ) ۔
و فی الھندیۃ : الکتابۃ علی نوعین : مرسومۃ و غیر مرسومۃ و نعنی بالمرسومۃ ان یکون مصدراً و معنونا مثل ما یکتب الی الغائب و غیر المرسومۃ ان لا یکون مصدراً و معنونا ( الی قولہ ) و ان کانت مرسومۃ یقع الطلاق نوی او لم ینو الخ ( ج1 ص 278 کتاب الطلاق ط: ماجدیۃ ) ۔ واللہ اعلم