کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ میرا نکاح تین مہینے قبل ہوگیا تھا ، ابھی رخصتی نہیں ہوئی تھی ، لیکن ہم دونوں کے درمیان میاں بیوی کا رشتہ تھا ہمبستری ہوتی رہی ، میرا شوہر شراب پیتا تھا اور میں منع کرتی تھی ، لیکن وہ باز نہیں آتے ، ایک مہینہ قبل اس نے شراب کے نشہ میں فون پر میرے ساتھ لڑنا شروع کیا اور کہا کہ میں یہ رشتہ ختم کرتا ہوں ، میں نے کہا کہ اس طرح رشتہ ختم نہیں ہوتا اگر ختم کرنا ہے تو پھر مجھے طلاق دو، تو اس نے کہا کہ " میں تمہیں طلاق دیتا ہوں " اور پھر دو مرتبہ کہا کہ " میں تمہیں طلاق دوں گا " لیکن اب وہ کہ رہا ہے کہ مجھے کچھ بھی یاد نہیں ہے ، میں نشہ میں تھا ، لیکن مجھے خوب اچھی طرح یاد ہے کہ یہی الفاظ بولے تھے اور اس پر میں حلفیہ بیان دیتی ہوں ، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوئیں اور اب ہمارے لئے کیا حکم ہے ؟
سائلہ کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو ، اس میں کسی قسم کے جھوٹ اور غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو ، اس طور پر کہ سائلہ کے شوہر نے رخصتی سے قبل خلوتِ صحیحہ ہوجانے کے بعد ایک ماہ قبل لڑائی جھگڑے کے دوران فون پر نشہ کی حالت میں سائلہ کو پہلی بار " میں تمہیں طلاق دیتا ہوں " کے الفاظ کہے ہو اور شوہر اس بات کا انکار بھی نہ کرتا ہو ، تو ان الفاظ سے سائلہ پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہوچکی ہے ، جبکہ بقیہ الفاظ انشاء طلاق پر دلالت نہ کرنے کی وجہ سے لغو ہوگئے ہیں ، لہٰذا شوہر کو دورانِ عدت رجوع کا اختیار حاصل ہے ، چنانچہ وہ اگر اپنی بیوی کو " میں تم سے رجوع کرتا ہوں " جیسے الفاظ زبانی طور پر کہہ دے یا میاں بیوی والا تعلق قائم کرلے ، تو یہ رجوع درست ہوکر میاں بیوی کا نکاح حسبِ سابق برقرار رہے گا ، بصورت دیگر شوہر کا رجوع نہ کرنے کی صورت میں ایامِ عدت گزر جانے کے بعد یہ طلاق ،طلاقِ بائن ہوکر میاں بیوی کا نکاح ختم ہوجائیگا ، جس کے بعد میاں و بیوی کا باہمی رضامندی سے ساتھ رہنے کے لئے باضابطہ گواہان کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ باقاعدہ ایجاب و قبول کرتے ہوئے نکاح کرنا لازم ہوگا ، لیکن بہر دو صورت آئندہ کے لئے شوہر کو فقط دو طلاقوں کا اختیار ہوگا ، اس لئے طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط چاہئے ۔
کما فی الھندیۃ: و طلاق السكران واقع إذا سكر من الخمر أو النبيذ. و هو مذهب أصحابنا رحمهم الله تعالى كذا في المحيط۔( کتاب الطلاق فصل فیمن یقع طلاقہ و فیمن لا یقع طلاقہ ج۔ ۱ ص۔ ۳۵۳ ط۔ ماجدیہ )
وفیھا ایضاً: بخلاف قوله ( سأطلق ) كنم لأنه استقبال فلم يكن تحقيقا بالتشكيك. و في المحيط لو قال بالعربية أطلق لا يكون طلاقا إلا إذا غلب استعماله للحال فيكون طلاقا الخ ۔ ( کتاب الطلاق ، الفصل السابع فی الطلاق بألفاظ الفارسیۃ ، ج ۱ ، ص ۳۸۴ ، ط ۔ماجدیہ )
وفیھا ایضاً: وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض كذا في الهداية. (کتاب الطلاق ، ج ۱ ، ص ۴۷۰ ، ط۔ ماجدیہ )
وفیھا ایضاً: (فالسني) أن يراجعها بالقول و يشهد على رجعتها شاهدين و يعلمها بذلك فإذا راجعها بالقول نحو أن يقول لها: راجعتك أو راجعت امرأتي و لم يشهد على ذلك أو أشهد و لم يعلمها بذلك فهو بدعي مخالف للسنة و الرجعة صحيحة و إن راجعها بالفعل مثل أن يطأها أو يقبلها بشهوة أو ينظر إلى فرجها بشهوة فإنه يصير مراجعا عندنا إلا أنه يكره له ذلك و يستحب أن يراجعها بعد ذلك بالإشهاد ( کتاب الطلاق ، الباب السادس فی الرجعۃ ، ج ۱ ، ص ۴۶۸ ، ط۔ ماجدیہ )