ایک مرتبہ ہم دوست آپس میں گفتگو کررہے تھے تو nationality کو مد نظر رکھتے ہوئے مذاق میں ایک نے کہا کہ میں نے تو پاکستانی عورتوں کو اپنے اوپر حرام کرلیا ہے، تو کیا یہ ظہار کے زمرے میں آئے گا اور اگر کبھی اسکا پاکستانی خاتون سے شادی کا ارادہ ہو تو کفارۂ ظہار تو لازم نہیں ہوگا؟
واضح ہو کہ کنوارہ شخص اگر نکاح کی طرف اضافت کیے بغیر طلاق کے الفاظ ادا کرتا ہے تو اس کی بات کا شرعاً کوئی اعتبار نہیں، بلکہ اس کا کلام شرعاً لغو ہوگا اور نکاح کے بعد بھی اس بات کی وجہ سے اس کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہ ہوگی، چنانچہ صورتِ مسئولہ میں اگر شخصِ مذکور کنوارہ ہو اور اس نے مذکور جملہ ”میں نے تو پاکستانی عورتوں کو اپنے اوپر حرام کرلیا ہے“ کہا ہے تو اس کا یہ جملہ لغو ہے، اس کی وجہ سے آئندہ کسی پاکستانی عورت سے نکاح کرنے کی وجہ سے اس پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔ تاہم آئندہ کے لیے اس طرح کے الفاظ استعمال کرنے سے بھی احتراز کیا جائے۔
ففی بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: وجملة الكلام فيه أن الطلاق لا يخلو: إما أن يكون تنجيزا، وإما أن يكون تعليقا بشرط، وإما أن يكون إضافة إلى وقت أما التنجيز في غير الملك والعدة فباطل؛ بأن قال لامرأة أجنبية: أنت طالق أو طلقتك؛ لأنه إبطال الحل ورفع القيد ولا حل ولا قيد في الأجنبية، فلا يتصور إبطاله ورفعه وقد قال النبي - صلى الله عليه وسلم -: «لا طلاق قبل النكاح» اھ(3/ 126)