کیا یہ صحیح ہے کہ عورتیں جماعت کے ساتھ تراویح ادا کریں ، اور اگر عورت حافظہ نہ ہونے کی صورت میں آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا تراویح کا حقیقی مقصد پورا قرآن پڑھنا ہے ، اور اگر وہ اکیلا نماز تراویح میں قرآن پڑھنا چاہے ، تو وہ نہیں پڑھ سکتے ؟
تراویح کا مقصد پورا قرآن سنانا نہیں، اس لیے تنہائی میں بھی تراویح میں قرآن پڑھ سکتی ہیں، جبکہ عورتوں کا تنہا جماعت کرانا مکروہ ہے۔
ففي الدر المختار: (و) يكره تحريما (جماعة النساء) ولو التراويح في غير صلاة جنازة اھ (1/ 565)
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله ويكره تحريما) صرح به في الفتح والبحر (قوله ولو في التراويح) أفاد أن الكراهة في كل ما تشرع فيه جماعة الرجال فرضا أو نفلا اھ (1/ 565) واللہ اعلم