کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام مندرجۂ ذیل مسئلہ میں کہ میری بیٹی مسماۃ " دانیہ سحر " کو اس کے شوہر مسمٰی " طلحہ آفتاب ولد آفتاب احمد " نے فون پر طلاق دی ، کہ میں اپنے ہوش و حواس میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ، یہ جملہ اس نے تین مرتبہ بولا ، لیکن میری بیٹی نے دو مرتبہ سن کر فون کاٹ دیا ، بعد میں شوہر نے بتایا کہ میں نے تین مرتبہ ہی کہا ہے ، لیکن آپ نے تیسری مرتبہ کا نہیں سنا ہے ، اس لئے میں نے معلوم کیا ہے کہ صرف دو طلاقیں واقع ہوئیں ہیں ، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ جب شوہر نے تین مرتبہ ہی طلاق کے الفاظ بولے ہیں لیکن بیوی نے دو سنے ، تو ایسی صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوئیں ؟ اور اب ان کے لئے کیا حکم ہے ؟
واضح ہو کہ وقوع ِطلاق کے لئے بیوی کا الفاظِ طلاق سننا شرعاً ضروری نہیں ہے، بلکہ اس کے بغیر بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل کے داماد نے اپنی بیوی کو مذکور الفاظ " میں تمہیں طلاق دیتا ہوں " تین مرتبہ کہہ دیئے ، اور وہ اس کا اقرار بھی کر رہا ہے ، تو اگرچہ بیوی ( سائل کی بیٹی ) نے تیسری مرتبہ کہے جانے والے طلاق کے الفاظ نہ سنے ہو ں، تب بھی سائل کی بیٹی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، اب رجوع نہیں ہوسکتا ، اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے ، جبکہ عورت ایامِ عدت گزرنے کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
کما قال اللہ تعالیٰ : فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَاتَحِلَّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ اھ (البقرۃ:230)۔
و فی احکام القرآن للجصاص : فالکتاب والسنۃ وإجماع السلف توجب إيقاع الثلاث معا وإِن كانت معصية اھ ( 1/529 )
و فی صحیح البخاری : عن عائشة أن رجلا طلق امرأته ثلاثا فتزوجت فطلق فسئل النبي صلى الله عليه وسلم أ تحل للأول قال لا حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول اھ ( 2/791 )
و فی الھندیة : و ان کان الطلاق ثلاثا فی الحرۃ و ثنتین فی الامة لم تحل له حتی تنکح زوجا غیرہ نکاحا صحیحا و یدخل بھا ثم یطلقھا او یموت عنھا اھ (1/473)۔
و فی الرد المحتار : و لا يلزم كون الإضافة صريحة في كلامه؛ لما في البحر لو قال : طالق فقيل له من عنيت؟ فقال امرأتي طلقت امرأته اھ (3/248)۔
و فی التاتارخانیة : رجل قال لامراته طالق و لم یسم و له امراۃ معروفة طلقت استحسانا اھ (4/421)۔