السلام علیکم جناب! آپ سے میں نے مسئلہ بیان کیا تھا، میرے شوہر نے 21 اکتوبر کو ایک طلاق بول دی تھی، اور اب انہوں نے مجھے پیپر بناکردیا ہے ،جس میں لکھا ہے ،کہ وہ باقی کی دو طلاق بھی دے رہا ہے، تو کیا اب طلاق ہو گئی یا اس میں نیت دیکھی جائیگی؟ اور پیپر بھی انہوں نے مجھےتصویر کی صورت میں دیے ہیں ،میں نے تصویر اس ای میل میں لگا دی ہے ،گزارش ہے کہ میری رہنمائی کیجئے، کیونکہ اب اس رشتہ میں حرام حلال کی بات ہے۔
سوال کے ساتھ منسلکہ طلاق نامہ اگرمطابق اصل ہو، اور سائلہ کے شوہر نے رخصتی یا خلوت صحیحہ ہوجانے کے بعد 21 اکتوبر کو واضح الفاظ جیسے "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" وغیرہ سےسائلہ کو ایک طلاق دی ہو تو ااس ایک طلاق کے بعد دورانِ عدت تحریری طورپر بقیہ دو طلاقیں دینے سے ،مجموعی طور پر سائلہ پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت ِمغلظہ ثابت ہو چکی ہے ، اب رجوع نہیں ہو سکتا اورحلا لہ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا، جبکہ سائلہ ایام ِعدت گزارنے کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے بھی آزاد ہے۔
کما فی رد المحتار: تحت (قوله طلقت بوصول الكتابة ) أي اليها ( إلى قوله) ولو استكتب من آخر كتاباً بطلاقها وقرأه على الزوج فأخذه الزوج وختمه و عنونه وبعث به إليها فاتاها وقع الخ ( ج ٣ ص 246 ط: سعید)۔
وفي الهداية: وإن كان الطلاق ثلاثا فی الحرة واثنین في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحاً صحيحاً و یدخل بها ثم يطلقها أو یموت عنها الخ (ج2، ص ۹۲ ط: انعامية)۔