السلام عليكم ورحمۃ الله وبركاتہ! امید کرتا ہوں خیریت سے ہوں گے ، مفتی صاحب ایک سوال تھا، احمد نے بینک سے ایک گاڑی قسطوں پر لی اور اس کو کچھ وقت کے بعد آگے عبداللہ کو بیچ دی ، احمد نے عبداللہ سے گاڑی کی پوری قیمت وصول کی جوکہ مارکیٹ میں اس وقت اس کنڈیشن کی گاڑی کی قیمت چل رہی ہے ، اور احمد نے یہ بات اپنے ذمہ لی کہ بقایا کی قسطیں جو بینک کودینی ہیں ، وہ میں خود سے ادا کرتا رہوں گا ، تو کیا ایسی صورت میں اس کے لئے شرعاً کیا حکم ہے ؟
واضح ہو کہ قسطوں پر کوئی چیز خرید کر اس پر قبضہ کر لینے کے بعد آگےنقد پر بیچنا شرعاً جائز ہے ، لہذا صورتِ مسئولہ میں احمد کا بینک سے قسطوں پر گاڑی خریدنا اورقبضہ کر لینے کے بعدعبد اللہ کو نقد پر بیچنا شرعاً جائزہے ، اور اس سے حاصل ہونے والا منافع بھی اس کے لئے شرعاً جائز ہے ۔
کما فی العنایۃشرح الھدایۃ: من اشترى شيئا بألف درهم حالة أو نسيئة فقبضه ثم باعه من البائع بخمسمائة قبل نقد الثمن فالبيع الثاني فاسد....إذا باع من غير البائع فإنه جائز أيضا بالاتفاق،(کتاب البیوع باب بیع الفاسد ،ج 6 ص 433)
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1